تعارف

سلام مسنون ،

         "دیدہ ور ، علی گڑھ اردو کلب " کا سہہ ماہی رسالہ  ہے۔اکتو بر ۲۰۰۷ کے اواخر میں جب "علی گڑھ اردو کلب " شروع کیا تھا، اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ یہ اسقدر جلدی ادبی حلقوں میں سراہا جائے گا۔ تب یہ منصوبہ تھا کہ کم و بیش اگلے سال سے" ایک آن لائن میگزین" شروع کریں گے۔ مگر جس کام کا فیصلہ اوپر ہوجائے وہ مقرّر کردہ وقت پر شروع ہو جاتا ہے، حالات بنتے چلے جاتے ہیں اور کہیں کوئی روکاوٹ حائل نہیں ہوتی۔ "دیدہ ور" کے لئے اﷲربّ العزت نے شاید مارچ کی پہلی تاریخ مقرر کر دی تھی جو یہ اپنے منصوبے سے قریب پورے نو مہینے پہلے جاری کیا گیا۔یہ محض ایک عام میگزین نہیں ہے اور نہ ہی وقت گزاری کا ‘مشغلہ’یہ ایک "کوشش "ہے اہلِ اردو کو دنیائے ادب سے جوڑنے کی۔ میں نعوذباﷲکوئی دعویٰ نہیں کر رہی ’کر ہی نہی سکتی۔کہ اپنے منصوبوں سے پہلے یا بعد میں ہوتے کام کے فیصلے جب اوپر ہو رہے ہوں تو انسان کے اختیار میں کچھ نہیں ہوتا۔چنانچہ میرے اختیار میں بھی کچھ نہیں ہے ما سوائے سعیٔ اور آپ تمام ممبران کے تعاون اور دعاؤں کے۔ کلب کے قبول ِ عام نے ہماری حوصلہ افزائی کی اور اپنے ممبران کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے   مارچ ۲۰۰۸  میں ہم نے اس کا پہلا شمارہ کلب کے ممبران کی  تخلیقات ، "کلاسیکل ادب کے نمونے"،" گوشیۂ ابن ِ فرید" اور "موجودہ ادب "دوستوں کی تخلیقات کے ساتھ شائع کیا۔ ادبی حلقوں میں اس کی خبر  بھی راتوں رات گردش کر گئی اور اسے ادبی  رسالہ کی حیثیت سے  پسند کیا گیا ایک ایسا  رسالہ جو  خالص ادبی تھا، اور کسی طرح کے بھی نظریۂ ادب کی نمائندگی نہیں کرتا صرف ادب کی بات کرتا ہے اردو ادب کی۔ معتبر کام نہ تنہا ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کو وہ مقبولیت مل پاتی ہے جن کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔  دیدہ ور کی تیاری میں جن دوستوں اور بزرگوں نے ہماری مدد کی، اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔ میں ان تمام حضرات کی بے حد ممنون ہوں۔ طارق ماما (طارق غازی۔ کنیڈا) کی جن کی رہنمائی اور مشوروں نے مجھے نہ صرف ہمّت دی بلکہ اعتماد بھی بخشا۔  ڈاکٹرصہیب صدیقی کی جن کی بے انتہا محنت اور خلوص نے دیدہ ور کی ویب سائٹ کو ‘دیدہ زیب’ بنایا۔نقوی بھائی(سید محسن نقوی۔ نیو جرسی)اور سلمان ماما(سلمان غازی۔ ممبئی)کی جن کے مشورےآخری وقت تک مجھے ملتے رہے۔طارق حسین صاحب کی کہ انہونے بر وقت دیدہ ور کا ڈومین رجسٹر کرایا۔ اور جاوید بھائی(جاوید بدایونیؔ )نے اس کی آمد پر مندرجہ ذیل قطعہ لکھ کر اپنی خوشی کا نہ صرف اظہار کیا بلکہ اس میگزین کا نام بھی ان کی عنایت ہے۔

اردو  والو! ایسا    لگتاہے  کہ اب یہ آسماں

خشک صحرائے  ادب پر  ابر بر سا نے کو ہے

اہلِ علم و   فکر  استقبال کی  باتیں کرو

اپنی اس محفل میں اب اک دیدہ ور آنے کو ہے

                اور میرے شکریے کا کچھ حقدار باری محمودصد یقی (میرا دو سالہ بیٹا) بھی ہے جس نے میرے کام کی مصروفیت کے دوران تنہا ہی خود کو مصروف رکھ کر اپنے صبر اور سمجھ داری کا ثبوت دیا، شکریہ بیٹا۔
                  جس طرح آپ سب نے "علی گڑھ اردو کلب "کو متحرک رکھا اور اسے تازگی دی ہے آپ تمام ممبرانِ گرامی اور اہلِ ذوق قارئین سےہم امید کر تے ہیں کہ وہ آئندہ بھی ہماری رہنمائی کریں گے اور اپنے بیش بہا مشوروں سے نوازیں گے۔ہمارے آئندہ کے پروگرام آپ کو وقتاًفوقتاً "علیگڑھ اردو کلب" کے ذریعہ ملتے رہیں گے۔

 دعاؤں کی طالب
                                         رضیہ مشکور