Ailgarh Urdu Club quaterly Urdu MagazineDeedahwar

  "مثالی بننا بہت مشکل کام ہے سمیر۔ اس لئے کہ  مثالیت پسندی آہستہ آہستہ ایک جنان بن جاتی ہے۔ حضرتِہودؑ کی قوم اسی خبط میں مبتلہ ہوگئی تھی۔ ایسے میں انسان  نمود و نمائش کا عادی ہو جاتا ہے دولت و حشمت ، جا ہ و جلال، غرور و تکبر پیدا کرتا ہے قآن حکیم میں ان کو " ذات العماد" یعنی اونچے ستونوں والے کہہ کر ایک خود نما، خود غرض قوم بتایا ہے۔سوچو کیا دنیا میں انسان اس لئے آیا ہے۔"

   " درست کہتے ہو جاوید  عرشیہ میں غرور و تکبّر تو نام کو نہیں ہے اور خود غرضی سے تو اسے سخت نفرت ہے۔اس نے اپنے آپ کو بہت معتدل اور متوازن شخصیت کا بنا رکھا ہے۔ نمائشی رسوم اور نمودنمائش کو وہ بھی نہ پسند کرتی ہے۔ اس کی ذات میرے لئے خیر کا باعث بنے گی اور زندگی چین و امن سے گزرے گی۔"

   "سمیر کیا تم جانتے ہو کہ کنفیوشس نے عالم گیر  امن اور چین کےسوال کو افراد کی ذاتی زندگی سے وابستہ کیا ہے۔ ذاتی زندگی میں تہذیب،علم، صبر،قناعت ، بے غرضی، ایثار اور اعلیٰ اخلاق پیدا ہو ں گے تو خاندان میں ادب ، تنظیم اور تہذیب آئے گی۔۔ خاندانوں  کے ذریعہ یہ سماج محبت ، رواداری ، احترام ، اور انصاف کا عمل جاری کرے گا۔ اور نیک اعمال انسانوں کا یہ گروہ دیہات ، گاؤں اور شہروں کو سدھاردے گا۔ ان ہی کا مجموعہ ملک ہے۔لہٰذا غور کرو جب ایک انسان اپنی ذات کو سنوارتا ہے تو کس طرح قومیں عروج مند ہوتی ہیں اور ملک متمدن بنتے ہیں دراصل یہی  مثبت اخلاق فلسفہ حضرت محمدؐ نے ا س دنیا کے سامنے پہش کیا ہے اور اس کا سیدھا تعلق تعلیم سے ہے"

  "وہی تو ہم نے بھی سوچا تعلیم مکمل ہوجائے تو روزگار مل جاتا ہے اس کے بعد گھر بسا لینا چاہیے۔عر شیہ شادی میں غیر ضروری دکھاوا پسند نہیں کرتی۔البتہ اس کا یہ کہنا ہے کہ شادی میں شہر کے معزز لوگوں کو بلانا چاہیے۔کوئی تقریب بالکل ہی عوامی ہوجائے تو الیکشن کا جلسہ لگنے لگتی ہے۔اسلئے ہمارا خیال ہے کہ تقریب سادہ تو ہو مگر کوئی وزیر آجائے تو سبحان ﷲ ورنہ ادیب ، شاعر، صحافی،ڈاکٹر، وکیل وغیرہ ضرور مدعو کیے جائیں۔

اس طرح تقریب میں ایک مہذ ّب وقار آجاتا ہے۔رشتے داروں پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے۔ان کی علمی گفتگو سے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔"

  "ہاں سمیر علم ہی سے لوگوں کا وقار بڑھتا ہے۔علم ہی عز ّت دلواتا ہے۔انسان اپنے آپ سے اس وقت تک بے خبر رہتا ہے جب تک اپنی ذات کا مطالعہ نہ کرے۔اپنا محاسبہ نہ کرے۔علم کے بغیر انسان بھیڑ بکریوں کی طرح ہے۔"

  "لو بھئی بکری پر یاد آیا۔ہم اپنی شادی پر بکرے ہی کا قورمہ رکھیں گے۔عرشیہ کہہ رہی ہے کہ بریانی مرغ کی رکھ لی جائےتم جانتے ہو جانور جانور میں بھی فرق ہوتا ہے۔معقول لوگ ہوں تو کھانا بھی معقول ہونا چا ہیے۔یہ نہیں کہ آنے والے مہمان کھانا دیکھ کر ہی دلگیر ہوجایئں۔ ایسے میں وہ دولہا دولہن کو بھلا کیا دعائیں دیں گے۔جاوید تم نے محسوس کیا ہوگا کہ عر شیہ کی رائے بڑی درست اور صائب ہوتی ہے۔"

  "تم جانتے ہو سمیر آج ہم باتیں کرنے کی مشین بن گئے ہیں جیسے دیکھو اپنی سنانا چاہتا ہے۔سمیر انسان جب زیادہ بولنے لگتا ہے تو اس کی عملی قوتیں کمزور پڑ جاتی ہیںاور جب عمل نہیں تو ہر فیصلہ بیکار ہے۔"

  " یقیناً    تم بتاؤ جاوید عرشیہ کا اور میرا شادی کا فیصلہ درست ہے نا؟"

 

٭٭٭٭٭٭


   Deedahwar Urdu Literary Magazine of Aligarh Urdu Club                                       Mohsin Naquvi Science and Society Page2  

his site is best viewed by Internet Explorer IE Explorer
This site is © Copyright Aligarh Urdu Club, All Rights Reserved.
Kiteboarding Lessons
KL
Aligarh Urdu Club




Aligarh Urdu Club


   Sorry, your browser doesn't support Java(tm)٫
or Enable Java Applet for your browser.Download Java from Java.com


Please Download and Install Urdu   Fonts from HERE, if you have problems reading our website.



 









        
Click here to join Aligarh_Urdu_Club
  Click to join AUC