"زندگی تیری پہچان"
شہناز
کنول
"سمیر تم جانتے ہو کہ دنیا کس قدر خطرناک حالات
سے گزر رہی ہے،ہماری بد اعمالیاں انتہا کو پہنچ چکی
ہیں۔ہوس ِ دنیاں نے دیوانہ بنا رکھا ہے۔۔بے حیائی اور
فواحش کھلے عام ہو رہے ہیں۔اسی لئے ہر جگہ افرا تفری
کا عالم ہے۔"
"لو جاوید افرا تفری پر یاد آیا۔ میں نے اور عر
شیہ نے اپنی شادی کا پروگرام بنا لیا ہے۔اگرچہ گھر
والے ایسی افرا تفری میں اتنی بڑی تقریب کر نے کے
خلاف ہیں۔لیکن نانا جان کی عیادت کو باہر بھی سےعزیز
آئے ہوئے ہیں۔گھر کا ماحول کچھ تقریب ہی کا سا ہو رہا
ہے۔"
"ماحول ہے کی تو ساری بات ہے۔جس ماحول میں ہم
سانس لے رہے ہیں۔ماحول کی نے فضا کو متاثر کرنا شروع
کر دیا ہے۔ تمہیں معلوم ہوگا اوزون گیس کی پرت تحلیل
ہو رہی ہے۔ جگہ جگہ شگاف پڑرہے ہیں۔اور اس کے نتیجے
میں سورج کی حدّت بڑھتی چلی جارہی ہے۔پھر وہ دن دور
نہیں ہوگاجب یہ تپش سوا نیزے والی کیفیت پیدا کردے
گی۔ اور انسان انتہائی گرمی سے بوکھلا اٹھے
گا۔"
"ہاں بھئی گرمی سے انسان بوکھلا یا ہوا تو رہتا
ہی ہے۔مگر ہماری شادی اسی گرمی میں ہو رہی ہے۔اگرچہ
مجھے یہ موسم پسند نہیں ہے مگر عرشیہ کا خیال ہے کہ
اب موسم کو لے کر شادی ٹالی نہ جائے۔جنریٹر
اور
کولر کا زمانہ ہے۔ اسکول کالج کی چھٹیوں میں سب کو
آنے کی بھی سہولت رہے گی۔"
"سمیر میں کیا بتاؤ کہ انسان کی سہولت پسندی نے
اسے کتنا نقصان پہنچایا ہے۔اس کی تن آسانی نےاس سے ہر
قسم کی سختی ’برداشت کرنے کی عادت چھڑادی ہے۔ مصنوعی
طریقے سے ٹھنڈک اور گرمی پیدا کر کے جسم کے نظام کو
بگاڑ لیا۔ جسم کے زہر اندر ہی اندر جذب ہوگئے اور
قوتِ مدافعت کمزور ہوگئی، اس کا اثر اس کے تمام اعضا
پر پڑا۔ پہلے وہ گنّا دانتوں سے چھیل کر کھاتا تھا اب
چاکلیٹ اورآئس کریم بھی ایسی کہ منہ میں ڈالنتے ہی
گھل جائے۔"
" ہاں جاوید ’ عرشیہ کو چاکلیٹ آئس کریم
بہت پسند ہے۔سوچ رہا ہوں کہ شادی پر سوئیٹ ڈش میں
چاکلیٹ آئس کریم ہی کردوں۔موسمِ گرما میں بہت پسند کی
جائے گی۔مجھے یقین ہے عرشیہ میری تائید کرے گی۔واقعہ
یہ ہے کہ وہ بہت ہی سمجھ دار لڑکی ہے۔ اس کی فراست سے
میں بہت متاثر ہوں ایسی ہی خواتین نسل ِ انسانی کو
سنوارنے کا کام کرتی ہیں۔
"
تم جانتے ہوںسمیر نسل ِ انسانی رفتہ رفتہ زوال کی طرف
جا رہی ہے۔آج کا انسان خود غرضی کے جال میں مکھی کی
طرح پھنسا ہوا ہے۔اتنا بےدست
و پاکبھی نہیں تھا، جنگوں اور اس کے نتیجے میں ہونے
والی تباہی نے نئی نسل کو مضطرب اور بے چین کر رکھا
ہے۔ جب ہمدردی اور انصاف کا خاتمہ ہوجائےگا تو انسانی
نسلیں ہجوم بن کر رہ جائیں گی۔"
"جاوید
تمہاری بات پر یاد آیا۔ عرشیہ کے والد
بھی
کہہ رہے تھےکہ مختصر اور مہذببارات لانا ۔بسوں میں
بحر کر ایک ہجوم مت لے آنا بیٹی کی رخصتی ہے کوئی
دعوت عام نہیں جیسے دیکھو چلا آ رہا ہے۔"عرشیہ
کہتی ہے کہ "دولہا والے دلہن والوں کے کندھے پر
رکھ کر بندوق نہ چھوڑ دیں۔"
سمیر تم بندوق کی بات کر
رہے ہو۔سائنسی انکشافات نے اہٹم بم’اور ہائیڈروجن بم’ کے
بعد ایسے ایسے مہلک ہتھیار بنا لئے ہیںجو اس زمیں پر
بسنے والے ہر جاندار کو فنا کر دیں گے۔ہزاروں میل دور
بیٹھ کر ایسی شعاعوں سے کنٹرول کئے جائیںگے جو اینٹ ’
پتھر
اور لوہا سب ریزہ ریزہ کردیں گےذرا غور کرو کیسی
تباہی آئے گی۔ ایک بم عظیم پہاڑوں کو منتشر کر دے
گا۔"
" افوہ جاوید! میں تو بھول ہی گیا تھا۔شادی کے
بعد ہنی مون کسی پہاڑی پر ہی ہوگا۔ایک چینی فلسفی نے
کہا ہے کہ باغوں کی سیر کے لئے فراغ دل دوست ہوں’
کشتی کی سیر کے لئے آزاد منش’ چاندنی رات کی سیر
ٹھنڈے دماغ والے کے ساتھ کرو۔اور پہاڑ پر جانے کے لئے
ہمدردی اور محبت کرنے والا ساتھی ہو۔در اصل میں تو
کبھی پہاڑ پر گیا نہیں اگر عرشیہ سوال کرے گی تو کیا
جواب دوں گا۔تم کشمیر’ مسوری ’ شملہ’ اوٹی وغیرہ جا
چکے ہو،ذرا مشورہ دو کون سا ہل اسٹیشن اچھا رہے گا۔عر
شیہ کو زیادہ بلندی پر سانس کی تکلیف ہو جاتی ہے اس
لئے میں چاہوں گا کہ ہم سطح سمندر سے زیادہ بلند نہ
ہوں۔"
"سمیر زیادہ بلندیوں کی خواہش نے ہی یہ دن
دکھایا ہے۔سادگی ،صبر،قناعتانسان کی زندگی سے رخصت
ہوچکے ہیں اس کی غذا ،لباس ،رہن سہن، خیالات سب مادہ
پرستی کی طرف جارہے ہیں۔ یہ دنیا ایک عظیم
منڈی
بنتی جا رہی ہے۔روحانی اوصاف سے کٹ کر انسان وحشت کے
زمانے کی طرف لوٹ رہا ہے۔ وہ
ایک اندھی دوڑ میں مصروف ہے یہ جانے بغیر کہ اس کا
انجام کیا ہوگا۔"
"عرشیہ
بھی یہی کہتی ہے جا وید کہ ہر کام کے انجام پر نظر
رکھنی چاہیے۔ وہ بڑی دور اندیش لڑکی ہے۔شادی کوئی جوا
نہیں ہے کہ جیت گئے یا ہار گئے۔بزرگوں کی سر پرستی
میں میرا انتخاب بہت ہی عمدہ رہا مجھے پورا یقین ہے
کہ عر شیہ اور میں ایک مثالی زندگی گزاریں
گے!"