طنز و مِزاح
زبان ہے تو جہان ہے
(نادِر خان سَر گِروہ ۔۔۔ ممبئی۔۔۔
مقیم مکہ مکرمہ)
با ادب با
محاورہ ۔۔۔ ہوشیار!!!
آج ہم زبان پر
کُچھ کہنے جا رہے ہیں۔۔۔ عجیب بات ہے نا۔۔ ۔ زبان سے
یا تو کُچھ کہا جا سکتا ہے ۔۔۔ یا پھِر کسی زبان میں
کُچھ کہا جا سکتا ہے۔اگر ہم زبان پر کچھ کہیں گے تو
آپ زبان پر حرف لائیں
گے۔
بات جب زبان کی چل نکلی ہے تو ذرا زبان پر
زبان چلائی جائے۔ زبان
کی بہت سی قِسمیں ہیں۔۔ ۔ مثال کے طور پر۔۔۔ موٹی
زباں۔۔۔ لمبی زبان۔۔۔ میٹھی زبان۔۔۔ تِیکھی زبان۔۔۔
اور کڑوی زبان۔
جانوروں کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے۔پھِر بھی ہم
اُنھیں۔۔۔ بے زبان کہتے ہیں۔ اگر ہمیں۔۔۔ چینیوں کی
زبان سمجھ نہ آئے تو کیا ہم اُنھیں۔۔۔بے زُبان کہیں
گے۔۔؟؟۔چین میں سب کچھ بنتا ہے۔۔ ۔سب سے زیادہ انسان
بھی وہیں بنتے ہیں۔۔۔ اورسب کے سب ایک جیسے ۔
سب چینی صرف چینی بولتے ہیں۔۔۔ چینی زبان میں سے اگر
حرف ۔۔۔ "چ
"۔۔۔ نکال دیا جاے تو کوئی بھی چینی ۔۔۔
چینی نہ بول سکے گا۔ ”بولنا تو دُور کی بات ، وہ ۔۔۔
چُوں ۔۔۔بھی نہ کر سکے گا“
اِن بے زبان سمجھے جانے والے چوپایوں کا ہماری زبان میں بہت بڑا
ہاتھ ہے۔۔۔ ہماری بے
شُمار ضرب الامثال ، مُحاورے اور کہاوتیں۔۔۔ اِن
ہی۔۔۔ چِرند و پرِند کی مرہُونِ مِنت ہیں۔
مثال کے طور پر۔۔۔۔
آ بیل مجھے مار۔
بلی کے خواب میں چھیچھڑے۔
بندر بانٹ۔
ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دِکھانے کے اور۔
اونٹ پہاڑ کے نیچے۔
گدھے کے سر سے سینگ۔۔۔۔
گھوڑا گھاس سے سے دوستی کرے گا
تو کھائے گا کیا؟
|
his site is best viewed
by Internet Explorer
 This site is © Copyright Aligarh Urdu
Club, All Rights Reserved.

KL |
|
|
Please Download and Install Urdu Fonts from
HERE, if you have problems
reading our website.

Click to join AUC
|