|
سنوارتا،اس کی قدروں
کو آگے بڑھاتا، روایت سے بغاوت کرتا،نئی روایتوں کو جنم
دیتا،افراد کے داخلی محسوسات اور خارجی اثرات کو آئینہ
دیکھاتا ہوا آگے بڑھاتا ہے۔
خط ِنستعلیق اردو زبان کا پیدائشی رسم الخط ہے،
اردو زبان کی طرح نستعلیق بھی ہمارا ایک ثقافتی ورثہ ہے۔اس
کی تاریخ چوتھی صدی عیسوی کے وسط سے شروع ہوتی
ہے،لتیھوگرافی کے فروغ کے بعد انگریزوں نے ۱۷۴۳ء میں اردو
زبان کا ابتدائی ٹائپ بنانے کی کوشش کی،۱۸۵۷ء کی جنگِ
آزادی کے بعد ٹائپ کے چھاپے بنانے کی ایک کوشش سر سید احمد
خاںؔ نے غازی پور میں کی۔۱۹۲۰ء کے
لگ بھگ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے نستعلیق ٹائپ بنوایا
اور نمونے کے طور پر ایک مختصر کتاب”داستانِ رانی کیتکی“
چھاپی۔ لیکن اب
electronicطریقہ
کار کے طباعت کے میدان میں داخل ہونے کی وجہ سے حالات بہتر
ہو گئے ہیں۔
حالیؔ نے ”حیات ِ
سعدی“۱۸۸۴ء میں لکھ کر ہماری زبان میں سوانِح نگاری کی نئی
طرہ ڈالی۔”یادگارِ غالبؔ” ۱۸۹۷ء کی
تصنیف اردو سوانِح تنقید کا سنگِ میل قرار پائی۔ مولانا
شبلیؔ نے”روئل و اسلام“ لکھ کر سیر
و سوانِح کا ایک سلسلہ شروع کیا۔کیا کیا کہوں اور کس کس کی
بات کروں،یہاں ہر چہرہ مہتاب ہے،ہر زرہ آفتاب ہے۔اس کی
تعریف میں زبان رک نہیں سکتی، اس کے قصیدے پر قلم رک نہیں
سکتا۔کاروانِ اردو ادب صدیوں کے سفر طے کرتا ہوا اپنی
آفاقی منزل کی طرف رواں دواں ہے، اس کے معماروں کی ایک
طویل فہرست ہے۔
محمد علی قطب شاہؔ سے لیکر
حالؔی، آزادؔ،
اکبرؔو اقبالؔ
تک ہم نے ردو قبول کے کئی مرحلے طے کئے ہیں۔ادبی ستاروں کی
کرنیں ہی کرنیں، شعاعیں ہی شعاعیں بکھری ہوئی ہیں، جب ہم ان
کواپنے اندر سمولے گیں،تب ہم توقع کر سکتے ہیں کے ہماری
آنکھوں میں ایک نئی بینائی،سینوں میں ایک نئی دھڑکن،رگ و
پہ میں حرارت اور دست و پا میں ایک نئی حرکت پیدا ہوگی اور
تبھی زندگی میں غیرمعمولی ہلچل پیدا ہوگی۔
سلطنت ’عمان‘ میں اردو انہی روایات کا ایک جیتا
جاگتا ثبوت ہے،مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ساقب خیرآبادیؔ،
شکیل قاسمیؔ اور میں(عارف
انوارالحق) نے ملکر نومبر ۱۹۷۷ء کی ایک شام شعر و سخن کی
بزم ہمارے یہاں کے ایک چھوٹے سے کمرے میں سجائی،یہ عمان
میں اردو کے حوالے سے پہلی کوشش تھی،۷۹۔۱۹۷۸ء کے دوران
میرے
غریب خانے پر ہر ماہ کی آخری جمعرات کو باقاعدہ
شعری نشست کااہتمام ہوتا رہا، اردو کے دیوانوں کی تعداد
روز بہ روز بڑھتی رہی جگہ کی قلّت ہوئی تو اس کا سلسلہ
پورٹ سروسس کے ریکریشن حال میں سالوں پروان چڑھتا رہا۔ اس
کی مقبولیت اس قدر عام ہو گئی کے شعراء کی تعداد ۵ سے ۳۳
تک جا پہنچی اور ضرورت کے اعتبار سے جگہ بھی تبدیل ہوتی
رہی،جو سلسلہ ایک چھوٹے سے کمرے سے شروع ہوا تھا وہ بڑھ کر
بڑے ہوٹلوں اور میدانوں تک جا پہنچا۔ہند و پاک مشاعرے
منعقد ہونے لگے، علی گڑھ والوں نے اس کوشش میں ایک نمایا
کردار ادا کیا۔ علی گڑھ کے مشاعرے کی دھوم پور ے خلیج میں
سنائی دینے لگی۔یہ سلسلہ ۱۹۸۳ء سے ۱۹۹۷ء تک اپنے پورے آب و
تاب کے ساتھ جاری و ساری رہا۔اسی دوران ایک مشاعرہ جناب
امتیاز اور قیصر محمود کی کوششوں کانتیجہ تھا، جس میں ہند
و پاک کے تمام مشہور شعراء نے حصہ لیا۔۱۹۹۲ء میں جناب
ہمایوں ظفرزؔیدی عمان تشریف لائے،
ان کی ادبی صلاحیتوں سے عمان کے اردو حلقوں میں بڑی رونق
رہی۔۱۹۹۶ء میں جناب مستعجاؔب اور
ہمایو زؔیدی نے ملکر مشاعرے کے ایک
نئے دور کا آغاز کیا،جو ہر سال پوری پابندی سے عمان میں
منعقد ہوتا رہا ہے۔پچھلی سال یہاں اردو ونگ کی بنیاد پڑی
اور ہمار ے نو جوانوں نے اس سلسلہ کو مزید آگے بڑھانے کا
بیڑا اٹھایا ہے۔
فروغ ِ اردو کے حوالے سے جب کوئی خبر ملتی ہے تو دل
باغ باغ ہوجاتا ہے۔ محترمہ رضیہ مشکور نے علی گڑھ اردو کلب
کی بنیاد ڈال کرتشنگانِ اردو ادب کی آبیاری کی ہے، اور جس
طرح اس کی مقبولیت عام ہوتی جارہی ہے،مجھے یقین ہے کے یہ
کوشش صبح ِ امید ِ نو کی طرح تاریخ ِ اردو ادب میں ایک سنگ
ِ میل قرار پائے گی۔(آمین)میں رضیہ بی بی کو ان کی اس کاوش
پرمبارک بعد پیش کرتا ہوں۔
”ضمیر ِ لالہ میں روشن چیراغ اے آرزو کردے
چمن کے زرے ِزرے کو شہیداجستجوکردے“
|
his site is best viewed
by Internet Explorer

This site is © Copyright Aligarh Urdu Club,
All Rights Reserved.

KL |
|
|
Please
Download and Install Urdu Fonts from HERE,
if you have problems reading our website.
 Click to join AUC
|