زبان ِ
اردو
عارف انوارالحق
زبان کا مثلا لثانی سے
زیادہ اجتمائی اور ثقافتی ہے۔ہر زبان بولنے والوں کی
عادت و اطوار کا مظہر ہوتی ہے موقف کے اعتبار سے
افراد کے مابین ایک دوسرے کے مافی الضمیر کو سمجھانے
کا واحد ذریعہ تسلیم کی گئی ہے۔الفاظ جنھیں زبان کے
عناضر ترکیبی کہنا چاہیے،اپنی ساخت کے لحاظ سے خواہ
کیسی قسم کے بھی ہوں،اصل چیز انکی معنی ہوتے ہیں جو
ایک مخصوص معاشرے کی کردار طرازی کا فرص ادا کرتے ہیں
اور انھیں سماج کے نفس نطقع کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
اردو سے ہمیں جس قدر محبت ہو کم ہے،کئی سو سالوں کی
مجموئی و اجتمائی کوششوں کے بعد ہماری زبان کی تشکیل
عمل میں آئی ہے، صدیوں کے مسلسل ریاض کے بعد اردو
زبان و ادب کی اقدار مرتب ہوئی ہیں۔
کیسی ادب و زبان کی اپنی کوئی اقدا ر نہیں ہوتیں، یہ
قدریں معاشرے کی قدروں کے ساتھ بنتی اور بدلتی بھی
رہتی ہیں اورقومی عظمت کا معیار متعین کرتی ہیں، زبان
ہی ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعہ معاشرے کے دل کی
دھڑکن سنی جا سکتی ہے۔
زبان نہ کیسی کی ایجاد ہوتی ہے اور نہ کوئی اسے ایجاد
کرسکتا ہے،جس اصول پر بیج سے کونپل پھوٹتی ہے،پتے
نکلتے ہیں،شاخیں پھیلتی ہیں،پھل پھول لگتے ہیں،اور
ایک دن وہ ہی ننّھا سا پودا ایک تناور درخت ہوجاتا
ہے،اسی اصول کے مطابق زبان پیدا ہوتی ہے بڑھتی اور
پھلتی پھولتی ہے۔
اگر ہم اردو کی تاریخ پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے
کہ چھٹی صدی ہجری کے آخر میں جب قطب الدّین ایبق کا
ایک معتمد امیر بختیاری خلجی بہار و بنگال میں
فاتحانہ داخل ہوا اور اسکی فتوحات کا سلسلہ بنگال کے
قدیم شہر نادیہ تک وسیع ہوگیا تو اُس نے رنگپور نامی
ایک شہر آباد کیا اور ہیں سکونت اختیار کی، اہلِ ہند
سے میل جول بڑھا تو ایک زبان نے جنم لیا، شروع شروع
میں یہ زبان لشکری زبان کہلائی،دھیرے دھیرے یہ پروان
چڑھنے لگی اور بارویں صدی عیسوی کے آخرمیں باقا عدہ
اردو کے نام سے وجود میں آئی،اردو زبان مختلف قوموں
کے باہمی اختلات کا نتیجہ ہے۔جتنی قومیں اردو کے قریب
آئیں اپنے اثر جھوڑ گئیں،وقتی ضررتیں ہرروز نئے الفاط
کے اضافہ کرتی رہیں،یہ صحیح ہے کہ اردو نے
ہندی،فارسی، اورعربی سے بہت کچھ لیا ہے،انگریزی،
پرتگالی،ترکی اور دوسری زبانوں سے بھی اردو نے
استفادہ کیا ہے،ان تمام زبانوں سے خوبصورت الفاظ اردو
زبان میں داخل ہوتے رہے اور اس زبان کو حسین سے حسین
تر بناتے رہے۔اس کی مقبولیت شاہی دربار سے نکل کر
عوام تک جاپہنچی،دہلی،لکھنوٴ اور دکن نے اس زبان کو
پروان چڑھایا،دھیرے دھیرے یہ زبان ہندوستان سے نکل کر
دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گئی،اور آج آپ کو یہ جان
کر خوشی ہوگی کے دنیا کی تمام ۳۳ہزار زبانوں میں بول
چال کے اعتبار سے اردو کا مقام انگریزی اور چینی کے
بعد تیسرے نمبر پر ہے،یہ زبان پاکستان اور مراکش کی
قومی زبان بھی ہے۔
ادب سسماج کے پہلوسے ہی جنم لیتا ہے اور پھر اس
کوسنوارتا،خوبصورت بناتا، اس پر تنقید کرتا آگے
بڑھاتا ہے۔ادب کی ترقی کیلیے سب سے اہم شرطیں شعور کی
بیداری اورسماج کی ترقی پذیری کے ادراق کو جِلا دینا
ہے۔گردوپیش کا صحیح علم اور گہرا مطالعہ صحیح قسم کا
سماجی شعور پیدا کرتا ہے، اور جب تک گردوپیش کا احساس
ادیب اور فنکار کے رگ وپہ میں سراعت نہ کرجائے،جذبات
کی گہرائیوں میں رچ نہ جائیں،جاندار ادب پیدا نہیں
ہوتا،یہ احساس کارچاؤ ہی تو ہے جو تخلیق میں ندرت
پیدا کرتا اور اس کا معیار بلند کرتا ہے۔سلطان
محمدقلیؔ قطب شاہ ہماری زبان
کا سب سے پہلا صاحبِ دیوان شاعر ہے،جس نے اپنی شاہانہ
مرتبے کے باوجوداپنے گردوپیش کی پوری جذیات کو بڑی
لطافت،شگفتگی،برجستگی اور خوش آہنگی کے ساتھ اپنے
ہلکے پھلکے رنگین و مترانم اشعار میں ایک عظیم فنکاری
کی طرح سمو دیا۔ اسکا کلیات ایک ایسا سبززار ہے جہاں
حد ِ نظر تک ہریالی ہی ہریالی نظر آتی ہے، اس چمن ِ
ادب میں ہرے بھرے درخت ہیں جن کی لچکتی شاخوں پر
جھولتے ہوئے خوش آواز پنچھی کبھی بسنت بہار کے نغموں
سے ساری فضا کو مست کر دیتے ہیں تو کبھی برہا کے
گیتوں سے پورا ماحول غمگین نظر آتا ہے۔
اردو نثر کا آغازتیرہویں صدی عیسوی کے اوائل میں حضرت
امیر خسرؔو کے عہد سے شروع ہوتا ہے۔دکن میں اردو کے
سب سے پہلے مصنف کی حیثیت سے شیخ عین الدین کا نام
لیا جاتا ہے،لیکن خواجہ سید اشرف جہا نگیر سمنانی۱۳۰۸
عیسوی میں ایک رسالہ” اخلاق “تصوّف پر تصنیف کر چکے
تھے۔ اردو نثر کی سب سے قدیم کتاب جو اب تک شائع ہوئی
ہے وہ حضرت خواجہ نواز گیسو دؔراز کی ”معراج العاشقین“ ہے آپ کا تعلق
دہلی کے ایک بزرگ خاندان سے تھا۔اردو شاعری کی تاریخ
اردو نثر کی تاریخ سے بہت قدیم ہے،اردو زبان و ادب کے
اصل معمار ہمارے قدیم شعراء ہیں جنہوں نے زبان کو
بنایا،سنوارا اور داخلی مسا ئل کو نت نئے طریقوں سے
شعر کے قلب میں ڈال کر زندگی اور اس کے ساتھ معاشرے
کی ہر آن بدلتی قدروں کو اجاگر کیا۔ادب معاشرے کے
پہلو سے جنم لیتا ہے اور اس کے بعد معاشرے کو

|
his site is best viewed
by Internet Explorer
 This site is © Copyright Aligarh Urdu
Club, All Rights Reserved.

KL |
|
|
Please Download and Install Urdu Fonts from
HERE, if you have problems
reading our website.

Click to join AUC
|