Ailgarh Urdu Club quaterly Urdu MagazineDeedahwar

 تھاچنانچہ جلد ہی اسے ضبط کر لیا گیا لیکن ا سکے جو سوتے پھوٹ کر عوام تک پہنچ چکے تھے اس نے عام قاری کے نئے طرز فکر اور ایک نئے تصور کی راہ دکھائی سیاسی اور سماجی قانون اور بندھے ٹکے مذہبی اصولوں کے خلاف ”انگارے“احتجاج کی حیثیت اختیار کر گیا۔
1936 ء میں ترقی پسند تحریک نے پریم چند اور ’انگارے“ کے موضوعات کو مزیدوسعت دی۔جیسے جیسے ترقی پسند خیالات ادب میں زورپکڑ رہے تھے ویسے ہی ویسے آزادی کی تحریک بھی انتہائی منزلوں کی طرف گامزن تھی ملک میں چاروں طرف ”آزادی میرا پیدائشی حق ہے“ ”تم مجھے خون دو میں تمہیں آزادی دونگا“ جیسے نعرے آزادی کے متوالوں کو سڑکوں پر لے آئے تھے اور بالآخر
1947ء میں مجاہدین کو ان کی محنت لگن اور حب الوطنی کا انعام آزادی کا تحفہ ملا اور چاروں طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مگر یہ خوشی وقتی ثابت ہوئی کیونکہ تقسیم وطن نے اس خوشی کو یوں متاثر کیا کہ ہر حساس دل اس پر خون کے آنسو رو دیا پھر ہجرت کا دل سوز واقعہ معرض وجود میں آیا اور ہندوستانی سماج میں جو پیاراو رمحبت ،ایثار و قربانی ،یگانگت بھائی چارہ اور گنگا جمنی تہذیب کی صدیوں پرانی فضا تھی یکسر بدل گئی۔بھائی بھائی کے خون کا پیاسا پڑوسی پڑوسی کے خلاف ایک فرقہ دوسرے فرقہ کی جان کا دشمن سارے ملک میں کشت و خون اور اضطراب ادیبوں اور مصنفوں کے لئے فکر ایسے میں ان کا کیا رویہ ہو؟ چنانچہ انسانی خون کی اس ہولی اور تقسیم وطن کے نتیجہ میں ہونے والا فساد ہجرت اور اس کے نتیجے میں عوام کی پریشانیوں کے متعلق شاہکار افسانے وجود میں آئے۔یہ افسانے جذبے کی شدت، انسان دوستی اور امن پسندی کی نمایاں مثال پیش کرتے ہیں۔جو ادیبوں کی مثبت انداز فکر کا نتیجہ تھے۔تقسیم وطن سے متعلق اور اس سے پیدا شدہ نتائج پر سب سے زیادہ افسانے کرشن چندرا ور سعادت حسن منٹو نے لکھے ہیں۔ کرشن چندر کے افسانوی مجموعہ ”ہم وحشی ہیں“ کے افسانے ”پشاور ایکسپریس“ ”ایک طوائف کا خط“ ”امرت سر آزادی سے پہلے امرت سر آزادی کے بعد“ وغیرہ اور سعادت حسن منٹو کے افسانے ” ٹوبہ ٹیک سنگھ“ ”شریفن“ اور ”گورمکھ سنگھ“ شامل ہیں کرشن چندر اور سعادت حسن منٹو کے علاوہ ان کے ہم عصروں میں تقریباَتمام افسانہ نگاروں نے اس انسانیت سوز موضوع پر اپنے طور پر اظہار خیال کیا ہے۔ جن میں سے بعض افسانے بلا شبہ اس موضوع پر شاہکار اور نمائندہ افسانے ہیں اور اردو ادب ان پر یقینًافخر محسوس کرتا رہے گا۔ ان میں حیات ﷲ انصاری (شکر گزار آنکھیں۔ ماں بیٹا)احمد ندیم قاسمی (پرمیشر سنگھ) عصمت چغتائی (جڑیں) خواجہ احمد عباس (سردارجی، میں کون ہوں، انتقام)عزیز احمد (کالی رات) سہیل عظیم آبادی (اندھیارے میں ایک کرن) خدیجہ مستور (مینو لے چلا بابلا) ہاجرہ مسرور(امت مرحوم) شامل ہیں۔
           تقسیم کے نتیجے میں رونما ہونے والے فساد نے انسان سے اس کی انسانیت یک لخت چھین لی۔بھائی نے بھائی کا گلا کاٹا مذہبی جنونیوں نے سرے عام ایک دوسرے کا قتل عام کیا۔جس کے نتیجے میں جہالت افلاس تعصب بھوک اور سماجی شکست و ریخت نے انسان کو نیم پاگل کر دیا۔بے شمار جانیں تلف ہوئیں اور لاکھوں لوگ اجڑ گئے ہندوستان کی تاریخ میں اس کی مثال اب سے پہلے نہیں ملتی۔بقول کرشن چندر۔

 ”یہ طوفان بہت دور سے آج سے ایک سو سال دور پیچھے سے آیا تھا یہ طوفان غدر سے شروع ہوا اور پندرہ اگست کو سارے ہندوستان میں پھیل گیا۔انسانی تاریخ کے اس طوفان نے ہر
ہندوستانی گھر کی چولیں ہلادیں اور کہیں نہ کہیں اس کی روح میں، اس کے جسم، اس کے ذہن میں، اس کے آداب، اس کی زندگی میں کوئی نہ کئی انقلاب ضرور پیدا کر دیا۔ یہ بڑا
بھاری طوفان تھا جو صدیوں کے بعد ہی انسانی زندگی میں آتا ہے۔ گو اسے شروع ہوئے
ایک سو سال سے زائد عرصہ نہ ہوا تھا۔کئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ طوفان نہ تھا دو طوفانوں
کی ٹکر تھی۔ایک طوفان جوایک سو سال پہلے شروع ہوا دوسرا طوفان جو اس سے کہیں پہلے
منوسمرتی کی جارحانہ براہیمنیت سے شروع ہوا سینکڑوں سال پہلے وہ براہیمنیت جو بدھ کے
عروج کا باعث بنی جس نے اسلام کو فروغ دیا ۔جس نے اچھوت پیدا کئے آج پاکستان کو جنم دے رہی تھی بلا شبہ یہ دو طوفانوں کی ٹکر تھی۔قومیت کا سیلاب اور براہیمنیت کا رد عم قومیت کا سیلاب آزادی لایا۔براہیمنیت کے ردعمل نے پاکستان کی تشکیل کی اور اب دونوں طوفان ٹکرا رہے تھے۔بجلی کی کڑک رعد گونج گرج انسانی چیخیں خون کی لہر بجلی جو گھروں کو جلا گئی ،عظمتوں کو جلا گئی، کھیتوں کو جلا گئی ،انسانوں کو جلا گئی اور یہ طوفان ادھر سے آیا جدھر سے آریہ لوگ آج سے ہزاروں سال پہلے ہند میں داخل ہوئے تھے۔“(2)

آزادی کا ملنا ہندوستانی سماج اور انسانی زندگی کا وہ موڑ تھا جہاں ہمارے اندر تعمیر اور ترقی کی خواہش اور خود اعتمادی کے حوصلہ مند

 

                             Deedahwar Urdu literary magazine Aligarh Urdu Club                            Mohsin Naquvi Science and Society Page2  



his site is best viewed by Internet Explorer IE Explorer
This site is © Copyright Aligarh Urdu Club, All Rights Reserved.
Kiteboarding Lessons
KL
Aligarh Urdu Club




Aligarh Urdu Club


   Sorry, your browser doesn't support Java(tm)٫
or Enable Java Applet for your browser.Download Java from Java.com


Please Download and Install Urdu   Fonts from HERE, if you have problems reading our website.



 









        
Click here to join Aligarh_Urdu_Club
  Click to join AUC