Ailgarh Urdu Club quaterly Urdu MagazineDeedahwar

                 اردو افسانہ ؛ موضوعات و مسائل

                                                    رضیہ مشکور

          مختصرافسانہ کے آغاز کے اسباب جو بھی رہے ہوں لیکن موضوع کے اعتبار سے افسانہ انسانی زندگی اور سماج کا آئینہ دار رہا ہے۔اس کی مقبولیت کی سب سے اہم وجہ یہی رہی ہے کہ اس نے عصری آگہی اور انسانی زندگی کے مسائل کی نہ صرف نشاندہی کی ہے بلکہ ان کا حل بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔اس طرح یہ صرف زندگی کا عکاس ہی نہیں بلکہ تر جمان بن کر ابھرا۔
یوں تو افسانہ ابتدأ سے ہی انسانی زندگی اور سماجی مسائل کی عکاسی کرتا رہا ہے۔لیکن ابتدأ میں زیادہ رجحان رومانیت کی طرف تھا۔ جلد ہی افسانے نے اصلاح پسندی ومثالیت پسندی کے لئے آغوش و اکردی ۔ہندوستانی سماج سیاسی شکست وریخت کا شکار ہو کر آزادی کا خواہاں ہوا توافسانے میں بہت تیزی سے ترقی پسندی اور حقیقت پسندی کا عمل دخل ہوا۔یہ سب سے موثر اور دیرپا رجحان تھاجس نے کم و بیش ادب کی تمام اصناف کو بیک وقت متاثر کیا۔افسانہ اس سے مبراّ کیسے ہو سکتا تھا؟ ترقی پسندی کے ہم قدم جو اصطلاحات سنائی دے رہی تھیں ان میں اشتمال (
COMMUNISM) فطرت پسندی(NATURALISM)رومان پسندی (ROMANTICISM)حقیقت پسندی (REALISM)اظہاریت(EXPRESSIONISM)لاشعوریت(SURREALISM)جدیدیت(SYMBOLISM)مثالیت پسندی (IDEALISM)اور ادب برائے ادب(ART FOR ARTS SAKE)شامل ہیں۔
مختصر افسانے میں بھی ان اصطلاحات کی کھنک سنائی دیتی ہے۔مندرجہ بالا اصطلاحات میں سے حقیقت پسندی ہی ایک ایسا جامع رجحان تھا جس نے مختصر افسانے کو بام عروج بخشا۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ان تما م رجحانات کوا پنے پہلو میں سمیٹ کر بھی افسانہ مقصدیت سے دامن نہیں چھڑا سکا۔بیسویں صدی سیاسی اور سماجی سطح پر رد و قبول اور شکست و ریخت کا عہد کہا جاتا ہے۔ حادثات و حوادث کی حیرت انگیز لہر نے اردو افسانے کو جو ابھی تک آہستہ روی سے آگے بڑھا تھا برق رفتاری عطا کی ،اور افسانہ میں بہترین جواہر پارے تخلیق کئے گئے۔موضوع کا یہ تنوع بلاشبہ حالات کی تبدیلی کے سبب تھا۔لیکن یہ وسعت تخلیق کار کی فکر کا نتیجہ بھی تھی جس نے مختصر اردو افسانے میں عصری آگاہی اور سماجی زندگی کو ہم آہنگ کر کے انسانی زندگی کے گوناگوں پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔افسانہ نگاروں نے اس صنف کو مقصدیت کا آلہ بناکر انسانی زندگی کے دکھ درد ،خوشی و غم ،نسلی امتیاز ،تواہم پرستی، انسانی بے بسی ،جہالت اور مفلسی جیسے موضوعات کو تمام تر جزیات کیساتھ پیش کیا ہے۔چنانچہ اردو مختصر افسانہ نگاری میں یہ دور تعمیر و تشکیل کے ساتھ ہی اردو افسانے کے سنہری دور سے عبارت ہے۔یہی دور ہے جب اردو مختصر افسانہ میں زندہ و تابندہ افسانے تخلیق کئے گئے۔تفصیل سے قطع کلام کرتے ہوئے اردو مختصر افسانے کےموضوعات و مسائل کی طرف ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں۔
مختصر افسانے نے یوں تو زندگی کے مختلف النوع پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے لیکن چند موضوعات ایسے بھی ہیں جس کی بدولت افسانہ دور شباب تک پہنچا کیونکہ ابتدائی زندگی کے یہ وہ پہلو تھے جو اب تک ادب کا موضوع نہیں بنے تھے اور جن موضوعات کو ادب میں پیش کیا جارہا تھا وہ عوامی زندگی سے قریب تر نہ تھے۔بلکہ ماورائی اور تخیلاتی تھے۔ادب چونکہ سماج کا آئینہ دار ہوتا ہے اور ادیب سماج کا رکن چنانچہ جیسے جیسے انسانی قدریں بدلتی ہیں ویسے ہی ویسے ادب میں بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔افسانے نے ان تبدیلیوں کو غیر جانبداری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ابتدأ میں جو افسانے لکھے گئے وہ رومان پسندی کے جذبے سے سرشار ہوکر لکھے گئے تھے جن کے روح رواں سجاد حیدر یلدرم، مجنوں گورکھپوری ، نیاز فتحپوری حجاب امتیاز علی وغیرہ شامل تھے۔پریم چند کے ابتدائی افسانے بھی کم و بیش اسی رجحان سے متاثر نظر آتے ہیں، جلد ہی ہمیں ان کے افسانوں میں دیہاتی زندگی کی وہ جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں جو اب تک افسانوں کا موضوع نہیں بنی تھیں۔مغربی تقلید کے بجائے انھوں نے عہد رفتہ کی عظمت اور روحانی صفات سے محبت اور اس سے بھی اہم وطن کی محبت میں سرشار ہو کر افسانے لکھے۔سوز وطن(
1908) کے افسانے اس محبت کا واضح ثبوت ہیں۔پریم چند کی یہ سب سے بڑی خدمت ہے کہ انھوں نے اردو افسانے کو موضوعاتی وسعت کے ساتھ ہی ساتھ تکنیک وہئیت کی روایت بھی بخشی، بعد کے افسانہ نگاروں کیلئے جو راہ انھوں نے ہموار کی اس پر چل کر اردو افسانہ نئی راہوں کا متلاشی بنا۔چالیس کی دہائی تک رومانیت کے ساتھ حب الوطنی اور حریت پسندی افسانے کا موضوع رہے۔ جو بلاشبہ حالات سے متاثر ہو کر لکھے گئے تھے۔ جنگ آزادی میں جہاں ہندوستانی سماج اجتماعی طور پر اس جدو جہد میں لگا ہو اتھا۔ اردو افسانے میں بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر غلامی، بیرونی طاقت اور سامراج کے خلاف غم و غصہ کی لہر دکھائی دیتی ہے۔1932ء میں انگارے نے ہندوستانی سماج میں کہرام برپا کر دیا کیونکہ یہ پہلا اتفاق تھا جب افسانے میں اس حد تک باغیانہ خیالات اور جارحانہ انداز اختیار کیا گیا تھا۔گویا قدیم طرز سے انحراف کیا گیا۔ موضوع کے اعتبار سے اس میں انحراف کی جو صورت ہے اس نے بھی ایک طبقہ کے لوگوں کودھلا کر رکھ دیا۔زوال پذیر معاشرے میں اس بے باکی اور جرات کا مظاہرہ اب سے پہلے اس انداز میں نہ ہوا

 

                                                         Deedahwar Urdu literary magazine Aligarh Urdu Club  



his site is best viewed by Internet Explorer IE Explorer
This site is © Copyright Aligarh Urdu Club, All Rights Reserved.
Kiteboarding Lessons
KL
Aligarh Urdu Club




Aligarh Urdu Club


   Sorry, your browser doesn't support Java(tm)٫
or Enable Java Applet for your browser.Download Java from Java.com


Please Download and Install Urdu   Fonts from HERE, if you have problems reading our website.



 









        
Click here to join Aligarh_Urdu_Club
  Click to join AUC