وہ سب
پاگل جن کا دماغ پوری طرح ماؤف نہیں ہوا تھا اس مخمصہ
میں گرفتار تھے کہ وہ پاکستان میں ہیں یا ہندوستان
میں۔اگر ہندوستان میں ہیں تو پاکستان کہاں ہے۔اگر وہ
پاکستان میں ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ عرصے
پہلے یہیں رہتے ہوئے بھی ہندوستان میں تھے۔
ایک پاگل توپاکستان اور ہندوستان اور ہندوستان اور
پاکستان کے چکر میں کچھ ایسا گرفتار ہوا کہ اور زیادہ
پاگل ہوگیا۔ جھاڑ ودیتے دیتے ایک دن درخت پر چڑھ گیا
اور ٹہنی پر بیٹھ کر دو گھنٹے مسلسل تقریر کرتا رہا
جو پاکستان اور ہندوستان کے نازک مسئلہ پر
تھی۔سپاہیوں نے اسے نیچے اترنے کو کہا تو وہ اور
اونچا چڑھ گیا۔ڈرایا دھمکایا گیا تو اس نے کہا۔ میں
ہندوستان میں رہنا چاہتا ہوں نا پاکستان میں اسی درخت
ہی پر رہوں گا۔ بڑی مشکل کے بعد جب اس کا دورہ سرد
پڑا تو وہ نیچے اترا اور اپنے ہندو سکھ دوستوں سے گلے
مل مل کر رونے لگا۔ اس خیال سے کے اس کا دل بھر آیا
کہ وہ اسے چھوڑ کر ہندوستان چلے جائیں گے۔
ایک ایم ۔ایس۔سی پاس ریڈیو انجینئر جو مسلمان تھااور
دوسرے پاگلوں سے بالکل الگ تھلگ باغ کی ایک خاص روش
پر سارا دن خاموش ٹہلتا رہتا تھا۔تبدیلی نمودار ہوئی
کہ اس نے تمام کپڑے اتارکردفع دار کے حوالے کر دئیے
اور ننگ دھڑنگ سارے باغ میں چلنا شروع کر دیا۔
چینویٹ کے ایک موٹے مسلمان پاگل نے جو مسلم لیگ کا
ایک سر گرم کارکن رہ چکا تھا اور دن میں پندرہ سولہ
مرتبہ نہایا کرتا تھا یک لخت یہ عادت ترک کر دی۔اس کا
نام محمد علی تھا۔چنانچہ اس نے ایک دن اپنے جنگلے میں
اعلان کر دیا کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح ہے۔اس کی
دیکھا دیکھی ایک سکھ پاگل ماسٹر تارا سنگھ بن
گیا۔قریب تھا کہ اس جنگ میں خون خرابا ہو جائے مگر
دونوں کو خطرناک پاگل قرار دے کر علیحدہ علیحدہ بند
کر دیا گیا۔
لاہور کا ایک نوجوان ہندو وکیل تھاجو محبت میں مبتلا
ہو کر پاگل ہوگیا تھا۔جب اس نے سنا کہ امرتسر
ہندوستان میں چلا گیا ہےتو اسے بہت دُکھ ہوا۔اسی شہر
کی ایک ہندو لڑکی سے اسے محبت ہو گئی تھی۔گو اس نے اس
وکیل کو ٹھکرا دیا تھا مگر دیوانگی کی حالت میں بھی
وہ اس کو نہیں بھولا تھا۔چنانچہ وہ ان تمام مسلم
لیڈروں کو گالیاں دیتا تھا جنھوں نے مل ملا
کرہندوستان کے دو ٹکڑے کر دئیے۔۔۔۔۔ اس کی محبوبہ
ہندوستانی بن گئی اور وہ پاکستانی۔
جب تبادلے کے بات شروع ہوئی تو وکیل کو کئی پاگلوں نے
سمجھایا کہ وہ دل برا نہ کرے اس کو ہندوستان بھیج دیا
جائے۔اس ہندوستان میں جہاں اس کی محبوبہ رہتی ہے۔مگر
وہ لاہور چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔اس خیال سے کہ امرتسر
میں اس کی پریکٹس نہیں چلے گی۔
یوروپین وارڈ میں دو اینگلو انڈین پاگل تھے۔ان کو جب
معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کر کے انگریز چلے گئے
ہیں تو ان کو بہت رنج ہوا۔وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں اس
مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے کہ پاگل خانے میں ان کی
حیثیت کس قسم کی ہو گئی۔یوروپین وارڈ رہے گا یا اُڑ
جائے گا۔بریک فاسٹ ملا کرے گا یا نہیں۔کیاانہیں ڈبل
روٹی کے بجائے بلیڈی انڈین چپاتی تو زہر مار نہیں
کرنی پڑے گی۔