Ailgarh Urdu Club quaterly Urdu MagazineDeedahwar

جی فیض آ باد میں کوئی لا وارث نہ مرے“۔ لیکن یہ خیر خواہی کسی ذات پات یا مذہبی عقیدے سے کے تحت نہیں بلکہ خالص انسانی ہمدردی کی مثال ہے وہ ۵۰۰ سے زائد مسلمانوں کی تہجیز اور تکفین کر چکے ہیں اور ۷۰۰ سے زائد ہندؤں کی آخری رسومات اد کر وا چکے ہیں ، ان کے لئے جہاں زندگی میں مرنے والا شخص صرف ﷲ کابندہ تھا وہیں مر جانے کے بعد وہ ایک انسان کی لاش ہے جس کا احترام ان کے نزدیک ضروری ہے۔ عموماً ثروت مند مسلمان اور ہندو بھی ان کی مالی اعانت کرتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی ان کا کام اتنا بڑا ہے کہ انہیں کبھی کبھی در در جا کر چندہ جمع لرنا ہوتا ہے خاص طور پر رمضان میں وہ مسلمانوں سے اچھا خاصا چندہ جمع کرلیتے ہیں۔ وہ چونکہ ان پڑھ ہیں اس لئے ان کا سارا حساب کتاب اُس بینک کا مینیجر رکھتا ہے جہاں انہوں نے اپنا اکاؤنٹ کھلوا رکھا ہے۔

ان کا کام صرف لا وارث لاشوں کو ان کی آخری منزل تک پہنچانے تک ہی محدود نہیں جو اس بے حس دنیا سے سدھار گئے بلکہ یہ گمنام مسیحا ان لوگوں کا بھی ہمدرد ہے جن کے رشتے دار انہیں اسپتال میں داخل کروا کے غائب ہو جاتے ہیں یا ان کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہوتا اور وہ تنہا اسپتال میں دوسروں کے رحم و کرم پر پڑے رہتے ہیں۔ ان کا دن فجر کے بعد ہی شروع ہو جاتا ہے جب وہ اپنی بیٹی کی پکائی ہوئی کھچڑی لے کر سیدھے اسپتال پہنچتے ہیں ۔ سرکاری اسپتالوں میں نرسوں اور داکٹروں کی کمی رہتی ہے اس لئے مریضوں کی صفائی وغیرہ کرنے کی ذمیداری بھی رشتے داروں کی ہو تی ہے۔ اسپتال پہنچتے ہی شریف بابا پہلے ان لوگوں کی صفائی میں جٹ جاتے ہیں جو اس دینا میں تنہا ہیں یا چھوڑ دئے گئے ہیں۔ پھر انہیں اپنے ساتھ لائی ہوئی کھچڑی کھلانا، انہیں دوا دینا بھی انہی کی ذمیداری ہے۔ اب تو ڈاکٹر بھی ان کے اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے اسٹاف سے زیادہ شریف بابا پر اعتماد کرتے ہیں۔
پھر ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ایودھیا میں رام لیلا میں ہنومان کا کردار ایک بوڑھا شخص ادا کرتا تھا۔ اسے اپنی دم میں آگ لگا کر لنکا کو جلانے کا منظر اسٹیج پر کرنا تھا ۔ ایک بار آگ اتنی بھڑکی کہ ان کے کپڑوں تک پھیل گئی اور اس سیے پہلے کہ آگ بجھائی جاتی وہ پچاس فیصد جھلس چکے تھے۔ اسپتال میں اس بیچارے کا کوئی دم ساز تھا نہ خدمت گذار سوائے شریف بابا کے جو ان کی خدمت میں جٹ گئے۔ اور پھر مقامی ہندو اس داڑھی والے شخص کا احترام کرنے پر مجبور ہو گئے جب انہوں نے دیکھا کہ اس شخص نے ہنومان بننے والے شخص کے آخری ایام میں نہ صرف اس کی خدمت کی بلکہ اس کے مرنے کے بعد اس لا وارث لاش کی آخری رسومات کا بھی خود ہی بندو بست کیا ۔مقامی اخباروں کے خوب سرخیاں جمائیں ” کہاں تھے رام بھگت ؟ جب ہنومان کی سیوا محمد شریف کر رہے تھے“۔ اسی طرح شریف بابا کو ایک بے اولاد مسلمان عورت بیماری کی حالت میں راستے میں پڑی ہوئی ملی جس نے اپنے اچھے دنوں میں اپنی ساری جائدا دوسروں کے لئے وقف کردی تھی شریف بابا انہیں اسپتال لے آئے ان کا علاج کروایا اور انتقال ہونے کے بعد ان کی تدفین بھی کی۔
ہر روز دوپہر میں وہ اپنی دوکان پہنچ جاتے ہیں جہاں سائیکل ریپیرنگ کر کے وہ اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔ شام کو دوکان بند کر کے وہ پھر اسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ مقامی حکام نے اب انہیں ایک موبائل فون بھی مہیا کر دیا ہے کیونکہ ان کی خدمات سے ضلع کے حکام بھی واقف ہیں اور ان لئے احسا ن مند ی کا جذبہ رکھتے ہیں۔حقیقتاً حکام نے ان پر کوئی احسان نہیں کیا نہ صرف یہ کہ اس طرح اب وہ چوبیس گھنٹے خدمات کے لئے موجود رہتے ہیں بلکہ انہوں نے تقریباً پچیس اہم مقامات جیسے بس ڈپو اور ریلوے اسسٹیشن پر اپنا نام اور موبائل نمبر لکھ کر لگا دیا ہے تاکہ لاوارث لاشوں کے ملنے پر یا دیگر ضرورتمندوں کو رابطہ قائم کرنے میں دشواری نہ ہو۔انہوں نے دو رکشے بھی کرائے پر لے رکھے ہیں جن میں وہ ایسی لاشوں کو لیجاتے ہیں۔

   Deedahwar Urdu Literary Magazine                                       Mohsin Naquvi Science and Society Page2  

his site is best viewed by Internet Explorer IE Explorer
This site is © Copyright Aligarh Urdu Club, All Rights Reserved.
Kiteboarding Lessons
KL
Aligarh Urdu Club




Aligarh Urdu Club


   Sorry, your browser doesn't support Java(tm)٫
or Enable Java Applet for your browser.Download Java from Java.com


Please Download and Install Urdu   Fonts from HERE, if you have problems reading our website.



 









        
Click here to join Aligarh_Urdu_Club
  Click to join AUC