گمنام فرشتہ
ڈاکٹر
طیّبہ قدوائی
ہم نے اکثرلوگو ں کو حقوق
انسانی، سماجی برابری اور مذہبی عصبیت پر تقریریں
کرتے سنا ہے لیکن حال ہی میں ہماری ملاقات ایک ایسے
انسان سے ہوئی جو یہ سب کام نہایت ہی خاموشی کے ساتھ
کر رہا ہے۔ یہ ملاقات اتفاق ہی سے ہو گئی جب وہ ہمارے
دیور سے ملنے آئے جو ہمیشہ ان کی ہمت افزائی بھی کرتے
ہیں اور اخلاقی مدد بھی بہم پہنچاتے ہیں اور انہوں نے
اس وقت بھی ان کی حمایت اور مدد کی تھی جب وہاں کے
ایک مسجد کے امام ان کو گھر سے نکالنے کے لئے کوشاں
تھے۔سفید کرتے پاجامے میں ملبوس، نورانی چہرے پر پر
سفید داڑھی اور سر پر ٹوپی پہنے یہ فرشتہ صفت انسان
محمد شریف ہیں جو بلا امتیاز مذہب و ملت ہر ایک کا
کام کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار نظر آ تے ہیں ۔ جہاں آپ
کو ان کے چہرے پر مصیبت زدہ لوگوں درد کی پرچھائیں
نظر آئے گی وہیں ان کے سینے پر ایک چھوٹا سا بیج بھی
نظر آئے گا جس پر جلی حروف میں سوشل ورکر لکھا ہوا
ہے۔
ہماری ان سے جس دن ملاقات ہوئی اس روز وہ ایک بچے کی
انگلی پکڑے ہوئے آئے اور اس کا تعارف کرواتے ہوئے
بولے کہ بہت غریب بچہ ہے پڑھنے کا شوقین ہے لیکن
اسکول کے یونیفارم اور کتابوں کے لئے پیسے نہیں ہیں،
کیا آپ اس کے لئے کچھ کر سکتی ہیں۔ ہماری طرف دیکھ کے
وہ کچھ ندامت کے ساتھ بولے: ہم پڑھے لکھے نہیں ہیں ،
اس لئے چاہتے ہیں کہ دینا کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم
نہ رہے۔ اس بیچارے کی مدد کر دیجئے۔ مجھے معلوم ہوا
کہ وہ اس بچے کی پڑھائی کی خاطر ایک بلب جلانے کے کے
لئے بجلی کا خرچ پندرہ روپئے اپنی جیب سے ادا کرتے
ہیں لیکن اس سے زیادہ نہیں کر سکتے۔ میں نے جب شریف
صاحب کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ وہ
ایک بے غرض خدمت کرنے والے انسان ہیں اور انہوں نے اس
کام کے لئے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ محمد شریف سائیکل
ریپیرنگ کا کام کرتے تھے لیکن ایک حادثے نے ان کی
زندگی کا رخ بدل دیا اور وہ ایودھیا کے جڑواں شہر فیض
آ باد میں خدمت خلق میں مصروف ہو گئے۔ ان کا درد مند
دل نہ صرف نفرتوں کی خلیج کو پاٹ رہا ہے بلکہ زندگی
کا وہ خوبصورت رخ پیش کرتا ہے جو ہم سب کے لئے قابلِ
تقلید ہے۔
سولہ سال پہلے ان کا نوجوان بیٹا اچانک لا پتہ ہو گیا
جو قریب کے شہر سلطان پور کے میڈیکل کالج میں کسی خیر
خواہ کی مدد سے پڑھائی کر رہا تھا ، ایک ماہ بعد
پولیس نے شریف بابا کو ان کے بیٹے کے کپڑے اور گھڑی
وغیرہ لا کر دئیے جو اس بات کو ثبوت تھا کہ ان کا
بیٹا اب اس دنیا میں نہیں رہا اور شائد اسے لاوارث
سمجھ کر تدفین کر دی گئی ۔ شریف بابا کے لئے اس غم کو
سہنا مشکل تھا لیکن ان کی فطری نیکی اور ایمان کی
طاقت نے انہیں سنبھالا دیا اور انہوں نے عزم کیا کہ
اب وہ کسی شخص کو لاوارثوں کی طرح مرنے کے لئے نہیں
چھوڑیں گے۔” میں نے طے کیا کہ میں ان تمام لوگوں کی
دیکھ بھال کروں گا جنہیں ان کے اپنوں نے چھوڑ دیا ہو
یا وہ تنہا کسی بیماری یا پریشانی کے سبب مصیبت میں
مبتلا ہوں۔ وہ چاہے کسی ایکسیڈنٹ میں زخمی ہوئے ہوں
یا لا علاج بیماری کے سبب اپنی زندگی کا آخری ایام
کاٹ رہے ہوں۔ان سولہ سالوں میں اب انہیں یہ بھی یاد
نہیں رہا کہ کتنے لوگوں کی انہوں نے مدد کی۔ وہ کہتے
ہیں کہ ان کے بیٹے کی موت سے پہلے ان کے لئے دو طرح
کے بچے تھے ” اُن کا بچہ“ یا ”کسی اور کا بچہ “ ۔
لیکن اب سب بچے ان کے اپنے ہیں ۔
فیض آ باد میں تمام لا وارث مرنے والوں کی آخری
رسومات اب وہی ادا کرتے ہیں وہ کہنے لگے: ”میری کوشش
ہوتی ہے کہ میرے جیتے

|
his site is best viewed
by Internet Explorer
 This site is © Copyright Aligarh Urdu
Club, All Rights Reserved.

KL |
|
|
Please Download and Install Urdu Fonts from
HERE, if you have problems
reading our website.

Click to join AUC
|