میں مفہوم کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنا ہوتا ہے ۔
اس میں سب سے بڑی مشکل یہ پیش آتی ہے کہ دونوں زبانوں کے
محاورے اتنے
مختلف ہوتے ہیں ہیں کہ اگر ان کا ترجمہ ہوجائے تو
مطلب خبط ہو جاتا ہے اور اگر ان کے مترادف محاورے
ترجمے میں نہ استعمال کئے جائیں تو زبان کی خوبصورتی
باقی نہیں رہتی۔یہی نہیں جملوں میں الفاظ کی نشست بھی
مختلف ہونے کے سبب لفظی ترجمے سے تحریر گنجلک ہو سکتی
ہے جو نہ صرف یہ کہ کسی واقعہ کو تبدیل کر سکتی ہے
بلکہ غلط فہمی کا سبب بھی بن سکتی ہے
ترجمہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اصل تحریر کے مقابلے
میں نہیں رکھا جا سکتا۔ ترجمہ الفاظ کا کیا جاتا ہے
جس میں اس بات کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ مصنف کا
مفہوم جس حد تک ممکن ہو ایمانداری کے ساتھ قاری تک
پہنچا دیا جائے لیکن وہ محسوسات جو کسی تحریر کا حصہ
ہوتے ہیں جنہیں ایک مصنف یا شاعر محض اپنے زورِ بیان
سے قاری تک پہنچانا چاہتا ہے ان کا ترجمہ نہیں کیا جا
سکتا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک خوبصورت مجسمہ
ہے جس کی اصل تعریف اسے ہر زاویہ سے دیکھ کر ہی ممکن
ہے البتہ اگر اس مجسمہ کا فوٹو آپ کے سامنے رکھ دیا
جائے تو اس کی خوبصورتی سے یقیناً آپ محظوظ ہونگے
لیکن فوٹو میں چونکہ آپ مجسمہ کا
صرف ایک رخ سے ہی معائنہ کر رہے ہیں اس لئے آپ کبھی
بھی لذت دیدار کی اس کیفیت کا ادراک نہیں کر سکتے جو
اصل کو دیکھنے والا کرے گا۔ لیکن اگر کوئی شخص اس
مجسمے کے خدو خال کی تفصیلات اس حسنِ ادائیگی کے ساتھ
پیش کرے کہ آپ کے ذہن میں اس مجسمہ کی تصویر ابھر آئے
تو یہ اس فوٹو کے مقابلے میں زیادہ پر کیف ہوگا۔ اس
اعتبار سے ایک اچھے ترجمے میں یہ خصوصیت ضرور ہونی
چاہئے کہ مترجم اگر کسی واقعہ کا ترجمہ کر رہا ہے تو
قاری جو اصل تحریر اور مصنف کے محسوسات تک نہیں پہنچ
سکتا ترجمہ کا خوبصورت انداز اس کی قوتِ متخیّلہ پر
اس طرح اثر انداز ہو کہ وہ خود کو اس واقعہ کا ایک
کردار محسوس کر نے لگے۔ یہ وہ خوبی ہے جس کی اکثر
مصنف بھی صرف تمنا ہی کر سکتے ہیں۔
فنِ ترجمہ کے مطابق ترجمہ میں اس بات کا بھی خیال
رکھا جاتا ہے کہ جس زبان کی تحریر ہو اس ملک کے مزاج،
رسم و رواج کی خوشبو بھی ترجمے میں رچی بسی ہو۔ اس کا
سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ قاری جو ایک الگ ماحول
اور سماج کا پر وردہ ہے وہ ایک بالکل مختلف سماج،
معاشرہ ، تہذیب اور ثقافت کا مطالعہ کر سکے بلکہ اس
کی لذتوں سے بھی روشناس ہو سکے۔ یہی نہیں جو قاری اس
تہذیب اور قوم کے مزاج شناس ہونگے وہ اس تحریر یا
واقعہ کو صحیح تناظر میں دیکھ کر زیادہ لطف اندوز
ہونگے۔ یہ خوبی آجکل تراجم میں مفقود ہے۔بد قسمتی سے
آجکل عموماً ترجمہ نگار کتاب کا انتخاب خود نہیں کرتے
بلکہ مختلف پبلشرس جس کتاب کو ضروری خیال کرتے ہیں ان
سے ترجمہ کرواتے ہیں۔ جہاں ترجمہ کروانے والے کا مقصد
پیسہ کمانا ہو اور ترجمہ نگاراپنی معاشی ضرورت پوری
کرنے کے لئے ایک مقررہ وقت میں کتاب کا ترجمہ کر رہا
ہو وہاں معیار ثانوی چیز ہو جاتا ہے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں منشی تیرتھ رام نے انگریزی
کے ِسرّی ادب کا اردو میں ترجمہ کیا ۔ برام اسٹروکر
کا مشہور ناول ”ڈراکیولا“ بھی اسی زمانے میں ترجمہ ہو
کر اردو داں طبقہ میں مقبول ہوا۔ ہم نے خود اپنے بچپن
میں یہ خوفناک ناول بہت شوق سے پڑھا تھا اور کئی
راتوں تک ڈر ڈر کر اٹھتے رہے۔ اسی زمانے میں رائڈر
ہیگرڈ کے مشہور زمانہ ناول
(SHE)
اور
(RETURN
OF SHE)
کا اردو میں ”عذرا“ اور ” عذرا کی واپسی “ کے نام سے
ترجمہ ہوا۔ مترجم کا نام اب یاد نہیں لیکن یہ ترجمہ
اتنا عمدہ تھا کہ بچپن میں اس کے طلسماتی ماحول کا
اثر عرصہٴ دراز تک ذہن پر نقش رہا۔ پھر وسط صدی میں
رائیڈرہیگرڈ کے دوسرے ضخیم مہماتی ناول مظہرالحق علوی
نے اردو میں ترجمہ کئے جن میں ہر ایک کی
ضخامت
۷۰۰ / ۸۰۰
صفحات سے کم نہیں تھی لیکن وہ اپنی زبان اور انداز
بیان کے سبب بہت مقبول ہوئے۔ چونکہ ترجمہ کو ادب کا
حصہ نہیں مانا جاتا اس لئے اپنا جائز مقام حاصل کرنے
کے لئے مظہر الحق علوی کو بھی