بسمِ ﷲ الرحمٰن الرحیم
ترجمہ
ایک فن
سلمان غازی
عموماً ترجمے جو ہمیں اردو اخبارات میں نظر آتے ہیں
بہت بے کیف ہوتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اخبارات میں
جو لفظی ترجمے نظر آتے ہیں وہ اکثر غلط بھی ہوتے ہیں۔
اردو والوں نے کبھی بھی ترجمے کو بطور فن اختیار نہیں
کیا حتیٰ کہ ادبی اور دینی کتب کے تراجم میں بھی
خامیاں نظر آتی ہیں۔ البتہ بعض مترجمین نے دونوں
زبانوں پر قدرت کے سبب اعلیٰ تراجم بھی پیش لئے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ترجمے میں مترجم کو اپنی علمی بصیرت
اور خیالات کے اظہار کا کم ہی موقع ملتا ہے۔ وہ اصل
تحریر کا غلام ہوتا ہے اور مصنف کے خیالات کا پابند
بھی۔ البتہ ترجمہ نگار کے فن کا اندازہ اس وقت ہوتا
ہے جب وہ دوسرے کے خیالات جو ایک غیر زبان میں ہوتے
ہیں اپنے قاری کے سامنے اس مہارت اور خوبصورتی کے
ساتھ پیش کرتا ہے کہ قاری معنیٰ آفرینی کی لذتوں کا
نہ صرف ادراک کرتا ہے بلکہ اسے اس ترجمے پر اصل کا
گمان ہوتا ہے ۔ایک مترجم دوسری زبان کے ادب اورثقافت
کا سفیر ہوتا ہے جس کی کاوشیں دو ممالک نہیں بلکہ دو
ثقافتوں ، دو تہذیبوں کو قریب لاتی ہیں ۔ ایک سفیر ہی
کی طرح ایک مترجم کو بھی اپنے کام میں ایماندار ہونا
چاہئیے۔
غور فرمائیں تو ہر تحریر جس کی رسائی آپ کے ذہن تک
ہوتی ہے وہ ترجمے کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ آپ جو تحریر
اپنی زبان میں پڑھتے ہیں آپ کا ذہن فوراً اس تحریر کا
ترجمہ مفہوم میں کر کے دماغ تک پہنچاتا ہے۔ جسے ہر
شخص اپنے فہم اور صلاحیت کے اعتبار سے سمجھتا ہے۔ اگر
یہ بات صحیح نہ ہوتی تو کسی تحریر کی کبھی تشریح کی
ضرورت نہ ہوتی۔ نہ کسی مفسر کی ضرورت محسوس ہوتی اور
نہ استاذکی ۔ پھر ایک ہی تحریر کا مفہوم جو عام قاری
سمجھتا ہے اس سے مختلف ہوتا ہے جو ایک عالم سمجھتا
ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایک غبی انسان کسی عبارت کا
جومفہوم لیتا ہے یقینی طور پر اس مفہوم سے مختلف ہوتا
ہے جو ایک با صلاحیت اور ذہین انسان سمجھتا
ہے۔
فنِ ترجمہ کی تاریخ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ایک
زمانے تک ترجمے کی اپنی اہمیت نہیں سجھی گئی بلکہ اسے
ادب اور شاعری سیکھنے کے لئے ایک درسگاہی مشق سمجھا
گیا جس میں کوئی مترجم اپنی پسند کے مصنف کی کسی
تحریر کا ترجمہ اپنے ادبی سفر کی ابتدا کے طور پر
کرتا تھا ۔یہ ترجمے عموماً مصنف اور مترجم کے ذہنی
قرب کے بھی ترجمان ہوتے تھے۔ ظاہر ہے ایسے تراجم میں
اس بات کا زیادہ لحاظ نہیں رکھا جا سکتا کہ مفہوم
حقیقتاً دوسری زبان میں منتقل ہوا یا نہیں ۔ البتہ
ایسے تراجم میں مختلف تجربات جیسے انشاء پردازی،
ادائیگی اور زورِ بیان کی طرف زیادہ توجہ دی جاتی تھی
خصوصاً اس زبان کے محاوروں اور روزمرّہ کا خیال رکھا
جاتا تھا جس میں ترجمہ کیا جا رہا ہے تاکہ ترجمہ کو
لوگ ایک با محاورہ اور سلیس و شستہ تحریر سمجھ کر
پڑھیں۔ اسی لئے جب فنِ ترجمہ مختلف ادوار سے گذرتا
ہوا اپنے کمال تک پہنچا تو ماہرین نے اس بات کا خصوصی
التزام رکھنے کا مطالبہ کیا کہ اصل تحریر کے معنیٰ
اور مفہوم کی خاطر خواہ حفاظت کی جائے ۔جو مترجم فن
کی اس باریکی سے واقف ہوتے ہیں وہ اس بات کا خصوصی
التزام رکھتے ہیں کہ ان کے تراجم میں جہاں سلاست،
اورروانی ہو وہیں اصل تحریر کا مفہوم ان کے زورِ قلم
کا شکار نہ ہو نے پائے ۔
ترجمے
کے لئے ضروری ہے کہ مترجم دونوں زبانوں کا ماہر ہو۔
پھر یہ مہارت صرف زبان دانی تک نہ محدود ہو بلکہ وہ
دونوں زبانوں کے محاورے، روز مرّہ سے کماحقہ واقفیت
رکھتا ہو۔ دوسرے لفظوں میں مترجم دونوں زبانوں میں
انشاء پردازی کی اہلیت رکھتا ہو۔ ترجمہ