|
قصۂ
درد سناتا ہوں کہ مجبور ہوں
میں
|
ہے
بجا
حلقٔہ
ازواج
میں مشہور
ہوں میں
|
|
یرا
بیرا ، تیرا دھوبی ، تیرا مزدور ہوں
میں
|
زن مریدی کا شرف پا کےبھی رنجور ہوں
میں
|
|
ناز بردار سے تھوڑی سی شکایت سن لے
!!
|
میری مخدومہ میرے غم کی حکایت سن
لے
|
|
ہر نئے سال نیا گل
ہےکھلایا تو
نے !!!
|
زچہ
بن
بن
کے
بجٹ
میرا گھٹایا تو
نے
|
|
جس میں ہر ر نگ
کا
ماڈل ہے سجایا تو
نے !
|
اپنا
شو روم
میرے
گھر
کوبنا یا
تو
نے
|
|
اس میں انگلش بھی ہےدیسی بھی ہے جاپانی بھی
|
گورا بھی ہے کالا بھی کانا بھی ہے کانی
بھی
|
|
فوج کی فوج میرے گھر میں جو در آئی
ہے
|
رشتہ داروں نے تیرے جان میری کھائی
ہے
|
|
بات
کہنے کی نہیں
تو بھی تو
ہرجائی
ہے
|
کوئی ماموں ہے کوئی خالو ہے کوئی بھائی
ہے
|
|
ان ممولوں کو سمبھالوں کہ چڑی ماروں کو
!!
|
کیسے غربت میں میں پالوں تیرے غمخواروں کو
|
|
اٹھ کے چولہے کی طرف جانا تجھے بھاری
ہے
|
کس
قدر
تجھ
پہ گراں صبح
کی
بیداری
ہے
|
|
تو ہی کہہ دے
یہی
انعامِ
وفاداری
ہے
|
مجھ سے کب پیار ہے ہاں نیند تجھے پیاری
ہے
|
|
لاکے بستر پہ
تجھے چائے
پلائی
جس
نے
|
میں وہ شوہر ہوں کہ خود آگ جلائی جس نے
|
|
اس بلیک آؤٹ سے مکھڑے کو سنوارا کس
نے
|
تو ہی کہہ دے کہ تیرا حسن نکھارا
کس
نے
|
|
واسطہ
دے
کے
غریبی
کا
خدارا لایا
|
کون
تیرے
درزی
سے
غرارا
لایا
|
|
لے کے شاپنگ کیلئے تجھ کو میں جاتا کم
ہوں
|
پھربھی مجھ سے یہ گلا ہے کہ کماتا کم ہوں
|
|
اور پلاز ا میں تجھ ے فلم دکھاتا کم
ہوں
|
نو
جوانی
میں
تجھے عیش کراتا کم ہوں
|
|
مشکلیں
شوہرِ مظلوم کی آساں کر
دے
|
کاش نوٹوں سے حکومت میری جیبیں بھر دے
|
|
تیری سرکار میں پہنچوں تو دبک جاتا
ہوں
|
محفلِ شعر و سخن میں
تو چمک جاتا
ہوں
|
|
گھور
کر د یکھے
تو پیچھے کو سرک جاتا
ہوں
|
تو جو بلغم بھی کھنکارے تو ٹھٹک جاتا
ہوں
|
|
تو ہے بے کار ترے پاس
کوئی کار نہیں
|
پھر بھی مجھ سے یہ گلا ہے کہ وفا دار
نہیں
|
|
|
|
|
عثمان
وارؔثی
|
|
|
|
|