Ailgarh Urdu Club quaterly Urdu MagazineDeedahwar

ملکوں میں رہنے والے بیچارے انسانوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔اگر آج بوائے فرینڈ اپنی گرل فرینڈ کے کتے کو پسند نہ کرے تو وہ دوسرا بوائے فرینڈ دیکھ لیتی ہے۔ کیوں کہ اب یہ سینڈوچ رشتوں میں مداخلت کر نے لگا ہے۔۲۴ گھنٹے کی بھاگ دوڑ کے بیچ فرد کے پاس رشتوں کے لئے وقت کی اسقدر کمی ہے کہ حد و بس ہے۔کتوں کے لئے وقت ہے ماں باپ کے لئے نہیں۔ٹھیک بھی ہے انکا پٹٹہ پکڑ کر کہیں بھی لیجایا جا سکتا ہے مگر ۔۔۔۔ توبہ اسغفرﷲ ۔ ہم بھی کہاں کی بات کہاں لے جا رہے ہیں؟
میری ایک چائنیز دوست ہے بڑی محنتی عورت ہے۔چائینز کلچر بھی ہندوستانی کلچر کی طرح ہے۔رشتہ سب مل جل کر رہتے ہیں۔ خیر سے تین بیٹیوں کی ماں ہے اس کی بڑی بیٹی یہاں وکالت پڑھ رہی ہے۔ایک دن وہ کہنے لگی ”رضیہ دیکھ کل میں نے اپنی لڑکی سے کہا کہ تو دیکھ میں کس طرح تیرے دادا دادی کو رکھتی ہوں ان کی دیکھ بھال کرتی ہوں کل تو بھی میرا ا یسی طرح خیال رکھنا جب میں بوڑھی ہو جاؤں۔ پتہ ہے اس نے مجھے کیا جواب دیا”کہنے لگی ماں میں تمہیں اچھے سے نرسنگ ہوم میں رکھوں گی اور ہر ویک اینڈ پر ملنے بھی آؤں گی۔ تب تک میں بہت سا پیسہ بنا چکی ہوں گی” ڈونٹ  وری ، فار ٹومارو۔“

وہیں دوسری طرف ایسے بھی افراد ہیں جو اپنے بزرگوں کو اور اپنی اولادوں کو اپنے کام اور تمام تر مصروفیت کے سنبھال رہے ہیں اور خوش اسلوبی کے ساتھ سارے فرائض نبھا رہےہیں۔ یہ بھی یہیں کی مثال ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ” یہ میرے لئے ایک ذمہداری ہیں اور میں خوش ہوں کہ خدا نے مجھے یہ ذمہ داری نبھانے کا موقعہ دیا آئی ایم ہیپی ود دس لائف“۔
دراصل ہم بات کر رہے تھے اس سینڈوچ دور میں قدروں کی تبدیلی کی۔میں قدروں کی پامالی کا رونا نہیں رو رہی بلکہ صرف میرے کہنے کا مطلب اتنا ہے کہ کیوں نہ ہم بھی اپنی پرانی اقدار اور ان بدلتی ہوئی اصطلاحات میں توازن بنائے رکھیں؟اگر ہم ایسا کر پائے تو ہماری اور ہمارے بعد کی آنے والی نسل کی زندگیاں سینڈوچ بننے سے بچ جائیں گی۔
یوں وہ جو زندگی کی نزاکتیں اور لطافتیں تھیں وہ تو گئیں خود زندگی بے مزاح ہوگئی ہے۔”یہ تیرا ،یہ میرا “کے اس دور میں آج آدمی جس طرح سے پس رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے سینڈوچ کلچر کی اصطلاح کچھ ایسی ناگوار بھی نہیں معلوم ہوتی کہ دیکھنے میں سینڈوچ بحر حال جاذبِ نظر ہی نہیں بلکہ  دکھنے میں لذیذ بھی لگتا ہے۔ لگتا کیا ہے؟ بہت لذیذ ہوتا ہے ہم بھی کھاتے ہیں آپ بھی کھائیے۔

رضیہ مشکور؛ موڈیریٹر، علی گڑھ اردو کلب
۶ نومبر ۲۰۰۷ء امریکہ

                    Deedahwar Urdu Literary Magazine, Aligarh Urdu Club                                       Mohsin Naquvi Science and Society Page2  



his site is best viewed by Internet Explorer IE Explorer
This site is © Copyright Aligarh Urdu Club, All Rights Reserved.
Kiteboarding Lessons
KL
Aligarh Urdu Club




Aligarh Urdu Club


   Sorry, your browser doesn't support Java(tm)٫
or Enable Java Applet for your browser.Download Java from Java.com


Please Download and Install Urdu   Fonts from HERE, if you have problems reading our website.



 









        
Click here to join Aligarh_Urdu_Club
  Click to join AUC