ملکوں میں رہنے
والے بیچارے انسانوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔اگر آج
بوائے فرینڈ اپنی گرل فرینڈ کے کتے کو پسند نہ کرے تو
وہ دوسرا بوائے فرینڈ دیکھ لیتی ہے۔ کیوں کہ اب یہ
سینڈوچ رشتوں میں مداخلت کر نے لگا ہے۔۲۴ گھنٹے کی
بھاگ دوڑ کے بیچ فرد کے پاس رشتوں کے لئے وقت کی
اسقدر کمی ہے کہ حد و بس ہے۔کتوں کے لئے وقت ہے ماں
باپ کے لئے نہیں۔ٹھیک بھی ہے انکا پٹٹہ پکڑ کر کہیں
بھی لیجایا جا سکتا ہے مگر ۔۔۔۔ توبہ اسغفرﷲ ۔ ہم بھی
کہاں کی بات کہاں لے جا رہے ہیں؟
میری ایک چائنیز دوست ہے بڑی محنتی عورت ہے۔چائینز
کلچر بھی ہندوستانی کلچر کی طرح ہے۔رشتہ سب مل جل کر
رہتے ہیں۔ خیر سے تین بیٹیوں کی ماں ہے اس کی بڑی
بیٹی یہاں وکالت پڑھ رہی ہے۔ایک دن وہ کہنے لگی ”رضیہ
دیکھ کل میں نے اپنی لڑکی سے کہا کہ تو دیکھ میں کس
طرح تیرے دادا دادی کو رکھتی ہوں ان کی دیکھ بھال
کرتی ہوں کل تو بھی میرا ا یسی طرح خیال رکھنا جب میں
بوڑھی ہو جاؤں۔ پتہ ہے اس نے مجھے کیا جواب دیا”کہنے
لگی ماں میں تمہیں اچھے سے نرسنگ ہوم میں رکھوں گی
اور ہر ویک اینڈ پر ملنے بھی آؤں گی۔ تب تک میں بہت
سا پیسہ بنا چکی ہوں گی” ڈونٹ وری ، فار
ٹومارو۔“
وہیں دوسری طرف ایسے بھی افراد
ہیں جو اپنے بزرگوں کو اور اپنی اولادوں کو اپنے کام
اور تمام تر مصروفیت کے سنبھال رہے ہیں اور خوش
اسلوبی کے ساتھ سارے فرائض نبھا رہےہیں۔ یہ بھی یہیں
کی مثال ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ” یہ میرے لئے ایک
ذمہداری ہیں اور میں خوش ہوں کہ خدا نے مجھے یہ ذمہ
داری نبھانے کا موقعہ دیا آئی ایم ہیپی ود دس
لائف“۔
دراصل ہم بات کر رہے تھے اس سینڈوچ دور میں قدروں کی
تبدیلی کی۔میں قدروں کی پامالی کا رونا نہیں رو رہی
بلکہ صرف میرے کہنے کا مطلب اتنا ہے کہ کیوں نہ ہم
بھی اپنی پرانی اقدار اور ان بدلتی ہوئی اصطلاحات میں
توازن بنائے رکھیں؟اگر ہم ایسا کر پائے تو ہماری اور
ہمارے بعد کی آنے والی نسل کی زندگیاں سینڈوچ بننے سے
بچ جائیں گی۔
یوں وہ جو زندگی کی نزاکتیں اور لطافتیں تھیں وہ تو
گئیں خود زندگی بے مزاح ہوگئی ہے۔”یہ تیرا ،یہ میرا
“کے اس دور میں آج آدمی جس طرح سے پس رہا ہے اس کو
دیکھتے ہوئے سینڈوچ کلچر کی اصطلاح کچھ ایسی ناگوار
بھی نہیں معلوم ہوتی کہ دیکھنے میں سینڈوچ بحر حال
جاذبِ نظر ہی نہیں بلکہ دکھنے میں لذیذ بھی
لگتا ہے۔ لگتا کیا ہے؟ بہت لذیذ ہوتا ہے ہم بھی کھاتے
ہیں آپ بھی کھائیے۔
رضیہ مشکور؛ موڈیریٹر، علی گڑھ اردو کلب
۶ نومبر ۲۰۰۷ء امریکہ

|
his site is best viewed
by Internet Explorer
 This site is © Copyright Aligarh Urdu
Club, All Rights Reserved.

KL |
|
|
Please Download and Install Urdu Fonts from
HERE, if you have problems
reading our website.

Click to join AUC
|