”سینڈوچ کلچر“
ہے کہاں تمنّاں کا دوسرا قدم یا
رب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا
غالب نے یہ بات چاہے کیسی بھی موڈ میں کہی ہو مگر
اتنا سچ ہے کہ انسانی تخیل کی پرواز جتنی تیز ہے اس
قدر تیز رفتارشاید ہی کوئی چیز ہو ۔ ادھر تمام تر
ترقی کے ساتھ زندگی سے متعلق نئی نئی اصطلاحات آتی
رہی ہیں آ ثارِ قدیمہ سے لیکر ہڑپہ اور موہنجوداڑو،
رشی ومونیوں سے لیکر صوفی ازم تک ، برہمنوں سے لیکر
شودھروں تک، مغلوں سے لیکر انگریزوں تک ،یورپ سے لیکر
امریکہ تک،دیئے سے لیکر برقی قمقموں تک، ٹی وی سے
لیکر کمپیوٹر تک اسقدر اصطلاحات کا ریلا آیا ہوا ہے
کہ پہلے جو عالم ہوتے تھے اپنے ذہنوں میں علم کے دریا
چھپائے ہوئے اب ہر فیلڈ کا ” اسپیشلسٹ“ ہوتا ہے لیکن
ماننا پڑے گا کی یہ ”اسپیشلسٹ“ ہی چاند پر پہنچا۔ااﷲ
میاں نے بھی انسانی تمنّاؤں کو دشتِ امکاں سے نکال کے
نقشِ پا بنا دیا۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ خود اﷲ میاں ہی
اوپر بیٹھے کھیل کھیل رہے ہیں۔ کہ بلاآخر ہم سب کی
ڈوری تو اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کھانا انسانی زندگی کی
بنیادی ضرورت ہے۔ وہ بھی اﷲ کی ہی دین ہے اور اس میں
بھی اختراعات نکلتی رہتی ہیں۔اگر ہم اس کرۂ ارض پر
کھانے کی اقسام کی فہرست بنانے بیٹھیں تو کتنے ہزار
فٹ لمبی لسٹ بنیں گی اس کے بارے میں کوئی اندازہ بھی
نہیں کر سکتا۔ سینڈوچ بھی اس زمین پر کھانے کی ایک
اہم قسم ہے۔اور آج کل دنیا میں سب سے زیادہ مشہور
بھی۔
کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے اچھا سینڈوچ ملک برطانیہ
کا ہوتا ہے بلکہ یہ ایجاد ہی برطانوی ہے۔ سب سے زیادہ
کثرت سے بنایا اورکھایا جاتا ہے ۔ایک اندازے کے مطابق
برطانوی سینڈوچ امریکی سینڈوچ کے مقابلے میں زیادہ
لذیذ مانا جاتاہے۔ بریڈ کی اتنی اقسام نہیں ملتیں
جتنی اس میں فلنگ کرنے کے لیے ورائٹی موجود ہیں۔آپ پر
منحصر ہے آپ چکن ڈالنا پسند کرینگے یا کھیرا، انڈوں
کا سینڈوچ آپ رغبت سے کھاتے ہیں یا سوئیٹ کارن کا، سب
سے مقبول قسم ”چیز“ سینڈوچ کی ہے۔ غرض سینڈوچ کی
اقسام لامحدود نہ سہی پر محدود بھی نہیں ہے۔
وقت کی بدلتی ہوئی قدروں کے ساتھ تبدیل ہوجانا ہی
متحرک زندگی کی سچائی ہے۔ مگر حال یہ ہے کہ ہم خود
اپنے آپ سے بھاگ رہے ہیں۔ قدروں کی تبدیلی نے جہا ں
ایک طرف انسان کو ترقی کی حدوں تک پہنچا دیا ہے وہیں
دوسری طرف انکی سماجی زندگی اور اسکی مصروفیت نے
موجودہ دور کی مصروف زندگی کو سینڈوچ بنا کر رکھ دیا
ہے۔اب سینڈوچ کی ساخت پر اگر ہم ٹھوڑا سا بھی غور
کریں تو ہمیں خود پر ہی ترس آنے لگتا ہے؟
کیونکہ یہ دور” سینڈوچ دور“ کہا جا رہا ہے۔ ہو سکتا
ہے ۔ہو سکتا ہے کیا؟ بلکہ ہوا ہے بے شمار انسانوں کو
اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ مگر ہم کیا کریں ہمیں اس سے
بہت فرق پڑ رہا ہے۔ ہماری ساری فکر اس عہد میں گردش
کرتی رہتی ہے جہاں سونے کے سکّے چلتے تھے۔ باندیاں
پچھے ڈوپٹے تھامیں ہوئے۔ مسندوں کا زمانہ۔ وہ وقت
جہاں ایک دل کی شہزادی پائے باغ میں نکل آئی اتفاق سے
وہاں ایک شہزادہ اپنے شکار کا پیچھا کرتے ہوئے آیا
اور اس حسن کی ملکہ کواپنے دونوں کبوتر تھما کر چلا
گیا، پھر آیا تو اس حسینہ کے ہاتھ میں ایک کبوتر دیکھ
کر اس کا جلال ابل پڑا اور اس نے رعبِ حسن کو خاطر
میں نہ لاتے ہوئے کڑک کر معلوم کیا ”ایک کبوتر کیا
ہوا؟“ شہزادی نے بڑی معصومیت سے جواب دیا” اڑ گیا“
”کیسے ؟“ شہزادے نے غضبناک ہوکر پونچھا” ایسے“
کہہ کر ملکئہ حسن نے دوسرا
کبوتر بھی اڑا دیا۔زرا غور کیجیے آج اس دو ر میں ان ”
معصوم اداؤں “کی گنجائش ہے؟ بعض ملکوں میں جانوروں کی
خریدوفروخت کچھ

|
his site is best viewed
by Internet Explorer
 This site is © Copyright Aligarh Urdu
Club, All Rights Reserved.

KL |
|
|
Please Download and Install Urdu Fonts from
HERE, if you have problems
reading our website.

Click to join AUC
|