اگر چہ رسم و رواج بھی اُس کے بر خلاف
رایوں کے اظہار کے لئے ایک بہت قوی مزاحم کار گِنا
جاتا ہے لیکن مذہبی خیالات مخالف مذہب رائے کے
اظہار اور مشتہر ہونے کے لئے نہایت اقویٰ مزاحم کار
ہوتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ صرف اسی پر اکتفا نہیں
کرتے کہ اُس مخالف رائے کا اظہار ہونا ان کو ناپسند
ہوا ہے بلکہ اُسی کے ساتھ جوشِ مذہبی اُمنڈ آتا ہے
اور جوعقل سلیم نہیں رکھتا۔ اور اس حالت میں اُن سے
ایسے افعال و اقوال سرزد ہوتے ہیں جو انہیں کے مذہب
کو جس کے وہ طرفدار ہیں مضرّت پہونچاتے ہیں۔ وہ خود
اس بات کے باعث ہوتے ہیں کہ مخالفوں کے اعتراضات نا
معلوم رہیں ، وہ خود اس بات کے باعث ہوتے ہیں کہ بہ سبب پوشیدہ رہنے
اُن اعتراضوں کے اُنہیں کے مذہب کے لوگ اُن کے حل
پر متوجہ نہ ہوں اور مخالفوں کے اعتراض بلا تحقیق
کئے اور بلا دفع کئے باقی رہ جائیں۔ وہ خود اس بات
کے باعث ہوتے ہیں کہ انکی آئیندہ نسلیں بہ سبب
ناتحقیق رہ جانے ان اعتراضوں کے جس وقت ان اعتراضوں
سے واقف ہوں اُسی وقت مذہب سے منحرف ہوجاویں۔ وہ
خود اس بات کے باعث ہوتے ہیں کہ وہ اپنی نادانی سے
تمام دنیا پر گویا یہ بات ظاہر کرتے ہیں کہ اس مذہب
کو جسکے وہ خود پیرو ہیں مخالفوں کے اعتراضوں سے
نہایت ہی اندیشہ ہے۔ اگر انہی کے مذہب کا کوئی شخص
بغیر حصولِ اغراضِ مذکورہ اُن کا پھیلانا چاہے تو
خود اسکو معترض کی جگہ تصور کرتے ہیں اور اپنی
نادانی سے دوست کو دشمن قرار دیتے ہیں۔
(اقتباس از مضامینِ سر سید، اردو اکیڈمی سندھ،
کراچی، صفحات ۳۹۔۴۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعری
ولیؔ دکنی کو اردو کا پہلا شاعر
مانا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ کہنا درست نہیں ہے۔ جبکہ
ہمیں معلوم ہے کہ قلی قطب شاہؔ جو ولیؔ دکنی سے کئی
برس پہلے کے ہیں وہ ایک صاحب ِ دیوان شاعر تھے۔ ہاں
یہ ضرور ہے کہ قلی قطب شاہ کی زبان وہ نہیں ہے جو
آجکل بولی جاتی ہے۔ انکے اشعار کو سمجھانا پڑتا ہے۔
اور کہیں کہیں قاموس کی مدد بھی درکار ہوتی ہے۔ جب
کہ ولیؔ دکنی کی زبان اور جدید اردو زبان جو ہم
بولتے ا ور سمجھتے ہیں اس میں کچھ خاص فرق نہیں
ہے۔
اس مختصر سی تمہید کے ساتھ ولی دکنی ایک غزل پیشِ
خدمت ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
دل ہو ا ہے مبتلا دلدار
کا
|
یاد کرنا ہر گھڑی اُس یار
کا
|
|
تشنہ لب ہوں شربتِ دیدار
کا
|
آرزو ئے چشمہٴ کوثر
نہیں
|
|
دل ہو ا ہے مبتلا دلدار
کا
|
عاقبت ہووے گا کیا ،معلوم
نئیں
|
|
حرف حرف اُس مخزنِ اَسرار
کا
|
کیا کہے تعریف دل ہے بے
نظیر
|
|
مدّعا ہے چشمِ
گوہر بار کا
|
اے ولیؔ ہونا سری جن پر
نثار
|
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ:
غور فرمائیے۔ ’معلوم نہیں‘ کو ’معلوم نئیں‘ نظم کیا
گیا ہے۔ یہ حاے حطی اور ھاے ھوز دونوں کو حذف کرنا
روز مرہ کی بول چال میں حیدرآباد دکن کی زبان میں
آج بھی عام ہے۔ یہاں تک کہ وہ خواتین اور حضرات جو
حیدرآباد سے ہجرت کرکے انگلستان اور شمالی امریکہ
کے شہروں میںآ بسے ہیں انکی بول چال میں یہ بات
خصوصیت سے ظاہر ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ عام اردو محاورہ
اختیار بھی کر لیتے ہیں اور کسی حد تک اپنے لہجہ کو
بھی بدل لیتے ہیں لیکن یہ ”ح “ اور ”ھ “کو حذف نہ
کرنا انکے بس سے باہر ہے۔ خصوصاً یہ لہجہ خواتین کی
زبان میں بہت عام ہے اور وہ لفظِ نوحہ کو نوا کہتی
ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔