Ailgarh Urdu Club quaterly Urdu MagazineDeedahwar

اُردو کے کلاسیکی ادب کے نمونے

پیشکش۔ سید محسن نقوی

‘‘نثر’’

جدید اردو نثر کا باوا آدم مرزا اسدﷲ خاں غالبؔ ہے۔ لیکن اردو نثر کو عربی اور فارسی کی ثقیل ترکیبوں سے صاف کرکے اسکو اس قابل بنانا کہ اس زبان میں فزکس، کیمسٹری سے لیکر نفسیات، سیاست، طب، فلسفہ اور دنیا کے دوسرے علوم پر سیر حاصل گفتگو کی جا سکے، نہ صرف گفتگو ہو سکے بلکہ اس صاف سُتھری، سادہ اور روان زبان میں درس بھی دیا جا سکے، اسکا سہرا سر سید احمد خاںؔ  کے سر جاتا ہے۔ جس زمانہ میں سرسید نے اس کام کی ابتدا کی تھی اُس وقت یہ بڑی ہمت کا کام تھا۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ سوسائیٹی میں جو طریقے رواج پا جاتے ہیں افراد انکے عادی ہو جاتے ہیں اور پھر اُن روایات سے ذرا سے بھی انحراف پر ہر طرف انگلیاں اُٹھنے لگتی ہیں، اعتراضات کی بھر مار ہوتی ہے اور ایسی ہر تحریک کی سختی سے مخالفت کی جاتی ہے۔
ایسی ہی مواقع پر بڑے قائد کی قیادت کا امتحان ہو تا ہے۔ اگر وہ قائد اور وہ مصلِح اپنی جگہ پر ایک عظم رکھتا ہے اور قدرت نے اسکو ایسی بصارت و بصیرت دی ہے کہ وہ نئی بات کے فوائد کو مستقبل کے لئے مفید سمجھتا ہے اور اسمیں ایسی قوتِ ارادی بھی ہے کہ اسکو اپنے ارادے سے دنیا کی کوئی سخت سے سخت مخالفت بھی ہٹا نہیں سکتی تو پھر وہی مصلِح قوم کامیاب بھی ہو تا ہے اور اسکی لائی ہوئی اصلاحات سے آنے والی نسلوں کو بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
آج جب کہ سرسید احمد خان کے انتقال کو سو برس سے زیادہ ہو چکے ہیں، ہم پیچھے مُڑ کر تاریخ کی طویل شاہراہ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہی کچھ نظرآتا ہے۔ اُس زمانہ میں جب کہ مسجّٰع اور مُقفّیٰ عبارات لکھنے کا فیشن تھا، اور وہ تحریریں جن میں عربی اور فارسی ترکیبیں نہ استعمال کی جاتی تھیں انکوعلمی اعتبار سے کم رتبہ سمجھا جاتا تھا، اُس زمانہ میں سر سید کی یہ تحریک کہ زبان سادہ اور سلیس ہو، عربی اور فارسی کی گنجلک ترکیبوں سے پرہیز کیا جائے، یہ ایک انقلابی اقدام تھا۔
سر سید کی تما م تحریروں میں ادب برائے ادب کے بجائے ادب برائے مقصد اور ادب برائے ترسیلِ پیغام کے عناصر پیش پیش ہیں۔
ذیل میں ہم سر سید کے ایک مضمون، جسکا عنوان ہے: ”آزاد ر اے“اس سے ایک اقتباس پیش کرتے ہیں۔ یہ مضمون اپنے مزاج اور اپنے اسلوب میں اتنی تازگی رکھتا ہے کہ جیسے ابھی کل لکھا گیا تھا۔ ہر بات جو کہی گئی ہے اسے دلائل سے بار بار تقویت بھی دی گئی ہے، اور زبان میں سادگی اور سلاست کی وہ ساری خوبیاں ہیں جِن کی نشاندہی ہم نے ابھی کی ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


”رائے کی آزادی ایک ایسی چیز ہے کہ ہر انسان اس پورا پورا حق رکھتا ہے۔ فرض کرو کہ تما م آدمی بجز ایک شخص کے کسی بات پر متفق الرائے ہیں مگروہی ایک شخص اُنکے بر خلاف رائے رکھتا ہے تو اُن تما م آدمیوں کو اُس ایک شخص کی رائے کو غلط ٹھہر انے کے لئے اس سے زیادہ کچھ استحقاق نہیں ہے جتنا کہ اُس ایک شخص کو اُن تمام آدمیوں کی رائے کے غلط ثابت کرنے کا ( اگر وہ ثابت کر سکے) استحقاق حاصل ہے۔ کوئی وجہ اس بات کی نہیں ہے کہ پانچ آدمیوں کو تو بمقابلہ پانچ آدمیوں کی رایوں کو غلط ٹھہر انے کا استحقاق ہو اور ایک آدمی کو بمقابل نو آدمیوں کے یہ استحقاق نہ ہو۔ رائے کی غلطی ا ٓدمیوں کی تعداد کی کمی بیشی پر منحصر نہیں ہے بلکہ قوتِ ا ستدلال پر منحصر ہے۔ جیسے کہ یہ بات ممکن ہے کہ نو آدمیوں کی رائے بمقابلہ ایک شخص کے صحیح ہو، ویسے ہی یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص کی رائے بمقابل نو کے صحیح ہو۔
رایوں کا بند رہناخواہ بہ سبب کسی مذہبی خوف کے اور خواہ بہ سبب اندیشہ برادری و قوم کے اور خواہ بدنامی کے ڈر سے اور یا گورنمنٹ کے ظلم سے نہایت ہی بُری چیز ہے۔ اگر رائے اس قسم کی کوئی چیز ہوتی جس کی قدر و قیمت صرف اُس رائے والے کی ذات سے ہی سے متعلق اور اُسی میں محصورہوتی تو رایوں کے بند رہنے سے ایک خاص شخص کا یا معدودے چند کا نقصان متصور ہوتا۔ مگر رایوں کے بند رہنے سے تمام انسانوں کی حق تلفی ہو تی ہے اور کل انسانوں کو نقصان پہونچتا ہے اور نہ صرف موجودہ انسانوں کو بلکہ ان کو بھی جو آئیندہ پیدا ہونگے۔

                    Mhsin Naquvi Science and Society page3                                         



his site is best viewed by Internet Explorer IE Explorer
This site is © Copyright Aligarh Urdu Club, All Rights Reserved.
Kiteboarding Lessons
KL
Aligarh Urdu Club




Aligarh Urdu Club


   Sorry, your browser doesn't support Java(tm)٫
or Enable Java Applet for your browser.Download Java from Java.com


Please Download and Install Urdu   Fonts from HERE, if you have problems reading our website.



 









        
Click here to join Aligarh_Urdu_Club
  Click to join AUC