مائیکل ہارٹ کی کتاب کا موضوع وہی ہے جو یہاں ہماری گفتگو ہے۔
لہٰذاہم یہاں اس کتاب کا حوالہ بار بار دیں گے۔ اور ہماری کوشش
یہ ہوگی کہ جن سائینسدانوں اور دوسری اہم شخصیات کا تذکرہ کیا
جائے انکے متعلق نشاندہی ہوتی جائے کہ مائیکل ہارٹ نے انکو
اپنی سو کی فہرست میں کس درجہ پر قرار دیا ہے۔
قدیم زمانہ سے روایت یہ رہی کہ علماء اور سائینس داں عام
سوسائیٹی سے ہٹ کر زندگی گذارتے رہے۔ اس سے ایک تاثر تو یہ
قائم ہوا کہ یہ لوگ کچھ خصوصی اہلیتوں کے حامل ہیں اور اسی وجہ
سے انکو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ قدیم یونان
میں یہ طریقہ رائج ہوا کہ یہ لوگ ایک خاص لباس پہن کر بازار
میں نکلتے تھا۔ یہ ایک لبادہ تھا۔ آج کل وکلاء اور جج حضرات کے
گاؤن اور علماء کی عبا اور قبا اُسی روایت کی یادگار ہیں۔
پرانے زمانے میں اُس گاؤن میں پشت پر ایک جیب ہو تی تھی۔ جب
ایسے لوگ بازار میں یہ گاؤن پہن کر نکلتے تھے تو بازار میں جس
کے پاس جو کچھ ہو تا تھا وہ چپکے سے انکی جیب میں ڈال دیا کرتا
تھا۔ اِس طرح سے علماء اور سائینس دانوں کی گذر اوقات ہوتی
تھی۔ گویا عوام انکی علمی خدمات کو سراہتے تھے اور چونکہ انہوں
نے اپنی زندگی حصولِ علم کے لئے وقف کردی تھی لہٰذا دوسرے لوگ
انکے کھانے پینے کا سامان کر دیا کرتے تھے۔ یہ بات سقراط،
افلاطون اور ارسطو کے دور کی ہے جب ان فلاسفرنے اپنا کام یونان
کے شہر ایتھنز میں شروع کیا تھا۔
ہم جب کراچی یونیورسٹی میں زیر ِ تعلیم تھے تو ہمارے
وائس چانسلرڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی صاحب نے یہ قانون
بنا دیا تھا کہ یونیورسٹی اکیڈمک کمیونٹی کا ہر فرد
گاؤن پہن کر آئیگا۔ اس میں اساتذہ اورطا لبعلم سب
شامل تھے۔ خود موصوف بھی گاؤن پہن کر کیمپس آتے تھے۔
اساتذہ اور طُلّاب کی پہچان گاؤن کے رنگ سے ہوتی تھی۔
انکا مقولہ تھا: کم علمی ایک قسم کی برہنگی ہے۔ یہ
گاؤن اُس برہنگی کے خلاف آپکا ستر ہے۔
خیر تو دوسرا تاثر جو سائنسدانوں اور علماء کے متعلق
دنیا میں قائم ہو ا وہ یہ تھا کہ یہ لوگ اپنی دُھن
میں مگن ہیں اور تعلیم و تعلُّم انکا
کام
ہے۔ بقیہ زندگی سے براہِ راست انکا کوئی تعلق نہیں
ہے۔ لہٰذا لوگ عام طور سے انکی دلچسپیوں میں دخل
اندازی نہیں کرتے تھے۔ معاشرہ کا یہ وطیرہ مدتوں رہا۔
اور اس بات پر توجہ کم رہی کہ سوسائیٹی پر سائینس کس
طرح سے اثر انداز ہو تی ہے۔ جب ہم افلاطون اور ارسطو
کا زمانہ دیکھتے ہیں تو ہم کو یہی منظر نظر آتا ہے۔
سیکڑوں برس ایسے ہی گذر گئے۔ اور شاید دو چار ہزار
برس اور بھی ایسے ہی گذر جاتے۔ جب یوروپ میں عیسائیت
عام ہوئی اور وہ بادشاہ کا مذہب بن گیا تو اب مذہب
اور حکومت کو ایک دوسرے سے سمجھوتا کرنا
پڑا۔
لیکن
سائینس اس سمجھوتے پر تیار نہیں ہوئی۔ یہ مقابلہ ایک
ناخوشگوار صورت میں اس وقت ظہور پذیر ہو اجب گیلیلیو
نے اپنا نظریہ کششِ ثقل پیش کیا۔ اور یہ بھی باور
کرانے کی کوشش کی کہ سورج اپنے جگہ پر قائم ہے اور
زمین اسکے گرد گھوم رہی ہے۔ چرچ کی تعلیم تو یہ تھی
کہ زمین نظامِ کائنات کا مرکز ہے۔ اصل میں تو یہ
نظریہ ارسطو نے قائم کیا تھا۔ کیتھولک چرچ نے اس
نظریہ کو جوں کا توں اپنا لیا تھا۔ گیلیلیو پر بڑی
زبردستیاں کی گئیں کہ وہ اپنے کافرانہ خیالات سے توبہ
کرلیں۔ لیکن انہوں نے نہیں مانا۔ نتیجہ یہ کہ وہ
راندہٴ درگاہ قرار پائے اور بدنامی اور تکلیفیں
اُٹھانے کے بعد اندھے ہو کر مر گئے۔ سائینس اور انسان
کی تاریخ میں یہ وہ باب ہے جہاں یوروپ کی مہذب دنیا
کو ماننا پڑا کہ سائینس سوسائیٹی پر اثر انداز ہوتی
ہے اور ہمیں سنجیدگی سے اسکا نوٹس لینا پڑیگا۔ ارسطو
اور افلاطون کا زمانہ چار سو قبلِ مسیح کا ہے۔
گیلیلیو کا زمانہ ۔۱۶۴۲ء۔۱۵۶۴ء عیسوی کا ہے۔ کیتھولک چرچ نے گیلیلیو کی زندگی عذاب
کردی تھی۔ اور انکی پوری عمر چرچ کے لگائے ہوئے
الزامات سے اپنا دفاع کرنے میں گذر گئی۔
۳۱/
اکتوبر
۱۹۹۲ءء
کو، یعنی گیلیلیو کے مرنے کے کوئی ساڑھے تین سو برس
بعد، آنجہانی پوپ جان پال نے سخت تاسف کا اظہار کرتے
ہوئے اپنی ایک تقریر میں فرمایاکہ چرچ نے گیلیلیو کے
ساتھ بڑی زیادتیاں کی تھیں۔ ہمارا خیال ہے شاید ہی
غالبؔ کو یہ معلوم ہو کہ گیلیلیو پر کیا گذری۔ البتہ
انکا یہ شعر اسی موقع اور محل کے لئے کہا گیا
تھا۔
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
نیوٹن اور آئینسٹائین دونوں نے گیلیلیو کو بابائے
سائینس قرا دیا ہے۔ اسٹیوین ہاکنگ کا کہنا ہے کہ جدید
ریاضیات اور سائینس میں جتنی ترقی ہوئی ہے اس میں سب
سے زیادہ حصہ گیلیلیو کا ہے۔ گیلیلیو پہلے سائینسداں
ہیں جنہوں نے یہ بتا یا کہ فزکس کے سارے اصول ریاضیات
سے ثابت کئے جا سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ گیلیلیو نے
ٹیکنالوجی پر بہت کام کیااور بہت سی ایسی چیزیں ایجاد
کیں جو ہم آج بھی استعمال کر رہے ہیں۔ مثلاً دوربین،
خوردبین، پینڈولم اور تھرما میٹر۔ یہ وہ اشیاء اور
آلہ جات ہیں جن کی وجہ سے گیلیلیو کا اثر سوسائیٹی پر
بہت گہرا رہا ہے۔ مائیکل ہارٹ نے اپنی فہرست میں
گیلیلیو کو بارھویں درجہ پر قرار دیا
ہے۔
