سوسائیٹی اور
سائینس
سید محسن نقوی۔
پرنسٹن۔ نیو جرسی
اس کتاب کا موضوع سائینس اور
معاشرہ پر سائینس کے اثرات کے متعلق بحث ہے۔ اس سلسلہ
میں سب سے زیادہ اہم گفتگو سائینس کے اخلاقیاتی
پہلوؤں پر ہوگی۔ اور یہ گفتگو ہم تاریخ کی روشنی میں
کرینگے۔
اب مشکل یہ آپڑی کہ انگریزی کی دو اصطلاحات ایسی ہیں
جن کے معنی اور مفہوم بہت ملتے جلتے ہیں۔
یعنی MORALS
اور
ETHICS۔ لیکن اصلاً یہ دو قدرے مختلف خیالات
کی ترجمانی کرتے ہیں۔ آئیے ہم چند دقیقے اس فرق کو
واضح کرنے کے لئے مختص کرتے ہیں۔
MORALS کا اطلاق انسان کے ذاتی کردار پر ہوتا
ہے۔ جبکہ
ETHICS ایک نظام اخلاق کا نام ہے جسکا اطلاق
کسی ایک معاشرہ سے متعلق ہوتا ہے۔ اُس مخصوص نظام
اخلاق میں کچھ معیار مقرر کئے جاتے ہیں جنکی روشنی
میں اُس معاشرہ کے افراد اپنے طرزِ عمل کو استوار
کرتے ہیں اور اپنے ذاتی اخلاق کو سنوارتے
ہیں۔
ETHICSکی مختلف اقسام ہیں۔
مثلا ً
PROFESSIONAL ETHICS، SOCIAL
ETHICS اور
BUSINESS ETHICS وغیرہ۔ اِس بات کو ہم ایک مثال سے مزید
واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کیجئے کہ ایک وکیل
دفاع ہے۔ وہ قتل کو بہت بڑا گناہ اور جرم تصور کرتا
ہے۔ یہ اُسکا ذاتی اخلاق ہے۔ لیکن اگر اسکا کوئی موکل
قتل کے جرم میں پکڑا جائے اوراُس وکیل کو یہ یقین بھی
ہو کہ اصل میں اُس نے واقعی قتل کیا ہے لیکن پھر بھی
اِس صورت میں اُس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے موکل کا
دفاع کرے اور عدالت میں ایسی بحث کرے کہ جیوری اور جج
دونوں کو اسکی بے گُناہی کا یقین آ جائے۔ یہ وکیل کی
پیشہ ورانہ ایتھکس ( PROFESSIONAL
ETHICS ) ہوگی۔
ایک بہت ہی دلچسپ تعریف جو مورلس اور ایتھکس کی گئی
ہے وہ ہمیں ایک سائینس فکشن ناول میں ملتی ہے۔ کتاب
کا نام مندرجہ ذیل ہے:
Theodore Sturgeon :More Than Human,
Ballantine, 1953, Gollancz, 2000
تعریف کچھ یوں ہے:
مورلس وہ نظامِ اخلاق ہے جو سوسائیٹی قایم کرتی ہے
انسان کی بقاء کے لئے۔ ایتھکس وہ نظامِ اخلاق ہے جو
فرد قایم کرتا ہے سوسائیٹی کی بقاء کے
لئے۔
عربی، فارسی اور اردو، تینوں زبانوں میں ان دونوں
الفاظ یعنی
MORALS اور ETHICS کے لئے اخلاقیات کی اصطلاح مستعمل ہے۔
اس سے لا محالہ ابہام پیدا ہوتا ہے۔ لہذا ہم نے
یہاں ETHICS
کے لئے مکارم الاخلاق کا
لفظ اپنایا ہے اور MORALS کے
لئے ہم اخلاقِ حَسَنَہ کی اصطلاح رکھتے ہیں
جبکہ
MANNERS کے لئے ہم ادب اور آداب کے الفاظ
استعمال کر ینگے۔ ہم یہی اصطلاحات ان معنیٰ میں بار
بار استعمال کر ینگے۔
۱۹۷۸ء میں امریکہ کے ایک تاریخ داں، فلسفی،
سائینسداں اور مورخ مائیکل ہار ٹ نے ایک کتاب ترتیب
دی۔ کتاب کا نام
ہے:
THE HUNDRED: A Ranking of the
Most influential Persons in History
By- Michael
Hart, Hart Publications, 1978, Citadel Press, New
York, 2001
اس کتاب میں فاضل مصنف نے ایک فہرست تیار کی ہے جس
میں ان سو شخصیات کا تذکرہ ہے جنہوں نے تاریخ انسانی
پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں اور اس پر بحث کی گئی ہے کے
وہ اثرات کتنے دور رس اور دیر پا ثابت ہو رہے ہیں۔
اسطرح سے شخصیات کے ذی اثر ہونے کی درجہ بندی کی گئی
ہے۔ اس شمار اور درجہ بندی میں فاضل مصنف نے ہمارے
نبی اکرم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو تاریخ انسانی کا
موثِّر ترین فرد قرار دیا ہے کیونکہ ہمارے نبی
اکرمﷺ وہ واحد فرد ہیں جو دنیوی اور دنیاوی
دونوں سطحوں پر کامیاب ہوئے۔ یہ کتاب جب منظر عام پر
آئی تو اسکے خلاف ایک خاموش تحریک چلی اور وہ کمپنی
جس نے کتاب شائع کی تھی دیوالیہ ہو گئی۔ برسوں بعد
ایک دوسرے دار الاشاعت نے کتاب کو پھر سے طبع کیا اور
جب سے تا حالِ تحریر کئی ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ اس نئے
ایڈیشن میں فاضل مصنف نے اضافے بھی کئے ہیں۔ ہمارے
سامنے کتاب کا تازہ ترین ایڈیشن ہے۔ کتاب میں سو
مضامین ہیں جس میں اُن سو (۱۰۰) افراد کی سوانح اور
انکے کام اور انکی خدمات پر گفتگو ہے۔ اسکے بعد مزید
کچھ افراد کی فہرست ہے جو فاضل مصنف کی نظر میں اسکے
بعد کامیابی کی سیڑھی پر نظر آتے
ہیں۔