ڈاکٹر ابن فرید کی
تنقید نگاری
پروفیسر عبد المغنی
ڈاکٹر ابن فرید کے تنقیدی مضامین کا ایک
مجموعہ ”میں ،ہم اور ادب“کے نام سے ۱۹۷۷ء میں شائع
ہوا۔”صدائے خیال“ کے عنوان سے اس کے پیش لفظ میں مصنف
نے تحریر کیا:
”میں ،ہم اور ادب کے درمیان نفسیات ، عمرانیات اور
ادب کا تعلق ہے۔۔۔۔۔۔ادب کا صرف ایک پہلو۔فنی پہلو۔ہی
تو نہیں ہے ۔برحق کہ نفسیات و عمرانیات ادب کا جامع
وکامل مطالعہ نہیں ہے،لیکن یہ تومان لیجئے کہ مطالعہ
کے اہم زاویے ہیں۔“ (ص ۔ ۱۰۔ ۹)
یہ چند مختصر جملے مصنف کے ادبی و تنقیدی نقطہٴ نظر
کی نشا ن دہی کرتے ہیں۔ان جملوں کا سب سے اہم نکتہ
لکھنے والے کی خود آگہی اور علم و ادب سے اس کی حقیقت
پسندانہ واقفیت ہے۔یہ ایک متوازن موقف ہے،جو ایک ایسے
جادہٴ اعتدال پر دلالت کرتا ہے جس کے معیار و اقدار
پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔اس کی سب سے بڑی خوبی فن
پرستی کی مبالغہ آرائی اور ادب برائے ادب کی گمراہی
کی طرف واضح اشارہ ہے۔اس سے مریضا نہ جمالیات پرستی
اور زوال پسندی کی بھی نفی ہوتی ہے۔ڈاکٹر ابن فرید کے
اس اعلانِ صداقت کی اہمیت خاص کر۱۹۷۰ء اور۱۹۸۰ء کی
دہائی میں اردو ادب کے اندر برپا ہونے والے اس طوفانِ
بدتمیزی کے پس منظر میں بہت زیادہ تھی جب ادب پر ایک
بے ذوق و بے شعور یلغار و انتشار کا دور دورہ
تھا۔
اس کے بعد ۱۹۸۰ء میں جب ڈاکٹر ابن فرید کے تنقیدی
مضامین کا ایک اورمجموعہ”چہرہ پس چہرہ“شائع ہوا تو اس
کے پیش لفظ میں ”روبہ رو“ کے عنوان سے مصنف نے حسب
ذیل سطر یں رقم کیں:
”یہ بڑی خوش آئندہ بات ہے کہ اردو زبان و ادب کے علمی
و فنی مطالعہ کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ دی جانے
لگی ہے۔اب چلتے کلموں اور مہمل اصطلاحی کرتب بازی کی
فیشن پرستی کم ہوتی جارہی ہے۔۔۔۔ہم کیوں بین
العلومی(Inter-Disciplinary)مطالعہ کے لیے مقبولیت کی
گنجائش پیدا نہ کریں؟
بین العلومی مطالعہ نہ کوئی تحریک ،نہ رجحان،نہ فلسفہ
اور نہ یہ فنی تنقید کا بدل ہے نہ مدمقابل ،بلکہ یہ
ایک علمی رسائی (Approach)ہے اور اس امر کی علامت بھی
ہمار ی زبان اردو اپنے بلوغ کے دور میں داخل ہو چکی
ہے۔“ (ص ۔ ۸ ۔۷)
مذکور ِ بالابیان گو یا مستقبل کی اردو تنقید یا
تحقیق کا ایک اشاریہ ہے،جب کہ حالی# کے ”مقدمہ شعر و
شاعری“اور اس سے بھی بڑھ کر شبلی کے”شعر العجم“نے
علمی تنقید کی وہ روایت قائم کر دی تھی جسے بین
العلومی بھی کہا جاسکتا ہے،خواہ اس کے لیے مغربی
اصطلاح کا سہارا نہیں لینا پڑے،اس لیے کہ دونوں
کلاسکی اساتذہ تنقید نے فن کے مطالعہ کے لیے ایک علمی
نقطہٴ نظر اختیار کیا اور اس طرح نام نہاد جمالیاتی
فن پرستی کو بجا طور سے ردیا نظر انداز کیا۔بہر
حال،ڈاکٹر ابن فرید کا بیان مغربی پس منظر کی طرف
اشارہ کرتا ہے۔اس لیے کہ ان کے سامنے اپنے دور اور
ماحول کے بعض غلط رجحانات تھے جن کی تردید کر کے وہ
ادبی تنقید کو رائج الوقت بے اعتدالیوں سے بچانا اور
جادہٴ اعتدال کی طرف بڑھانا چاہتے تھے۔اس سلسلے میں
انھوں نے خود اتنا محتاط رویہ اختیار کیا کہ بین
العلومی مطالعے کو کوئی تحریک یار جحان یا فلسفہ قرار
دینے سے انکار کیا،یہاں تک کہ فنی تنقید کا بدل یا
مدِ مقابل قرار دینا بھی گوارا نہیں کیا۔یہ ان کے
اندازِ نظر کا انتہائی توازن ہے۔
مندرجہ بالا تفصیل و تشریح سے واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر
ابن فرید ادب برائے ادب کے نہیں ،ادب برائے زندگی کے
قائل ہیں، یعنی وہ ادب کا مطالعہ محض اس کے فن یا
ہیئت و اسلوب کو مدِ نظر رکھ کر نہیں
کرتے

|
his site is best viewed
by Internet Explorer
 This site is © Copyright Aligarh Urdu
Club, All Rights Reserved.

KL |
|
|
Please Download and Install Urdu Fonts from
HERE, if you have problems
reading our website.

Click to join AUC
|