Ailgarh Urdu Club quaterly Urdu MagazineDeedahwar

"ایک نظر؛  انقلابِ زنج"( جاوید دانش)

                       رضیہ مشکور

   میں جو ڈرامہ کی محض ایک قاری ہو۔ڈرامہ پڑھا"اچھا  ہے"یا "اوئی یہ کیا بات ہوئی؟"یا"نہیں بھئی اسکا اختتام بالکل بھی اچھا نہیں ہے"جیسے نادر جملے بولے اور بات ختم۔یہی تنقید، یہی تبصرہ، اور یہی تعریف۔ مگر دانش بھائی نے اپنی کتاب "انقلابِ زنج" دے کر اسے پڑھنے کی بھاری ذمہ داری مجھ پر ڈال دی۔چلئے بات یہاں تک بھی غنیمت تھی ، لیکن جب دانش بھائی نے فر مایا کہ میری پہلی کتاب"پرو میتھِیٔس"پر ابّو(مرحوم ڈاکٹر ابنِ فرید) نے تبصرہ لکھا تھا اور یہ پیشن گوئی بھی کی تھی کہ" تم ایک دن بڑےقلم کار بنوں گے"اور اب اس( غالباً ) دسویں کتاب پر آپ تبصرہ کیجئے۔ "ناگہانی کی تعریف یہی ہو شاید"؟ بتائے جس کے لئے ابو کی پیشن گوئی  صحیح ثابت ہوئی ہو اس پر میں کیا کہوں؟آج کم و بیش بیس سال کے بعد"پرومیتھس" کا مصنف گیارہ کتابوں کا مالک، کنیڈا میں مقیم،اور جس کی قلم کی جولانیوں کا اعتراف کوسوں دور ان کے اپنے وطن میں یوں ہوا کہ ہندوستان میں پچھتر سالہ اردو ڈراموں کے انتخاب میں دانش بھائی کا نام اور کام شامل کر لئے گئے ہیں۔آئندہ سطور میں اگر کوئی غلطی ہوجائے تو در گزر میرا حق بنتا ہے  دانش بھائی۔میں اس کام کی بہرحال اہل نہیں تھی۔

  جاویدؔ دانش کا قلمی سفر ستر کی دہائی میں شروع ہو اتھا جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔دنیا کی مختلف  زبانوں کے ڈراموں کے ترجموں اور طبع زاد ڈراموں کے ذریعہ قاری ان سے بخوبی واقف ہیں۔ خود اپنی تخلیق کے مقابلے میں ترجمہ ایک مشکل فن ہے۔ ترجمہ کرنے والے کواس میں مذکورہ زبان کی "شیرینی" اوروہ" زِیریں لہٍر" جو اس زبان کا خاصہ ہوتی ہے اپنی زبان میں برقرار رکھنا ہوتی ہے۔اس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ یہ ایک دقّت طلب فن ہے۔اس دقّت طلب کام کو کرنے کا عزم بذاتِ خود جوئے شیر لانا ہے۔اگر کوئی اس کی ذمہ داری اٹھاتا  اور اس کے ساتھ انصاف کر پاتا ہے تو یہ مصنف کا بڑا کمال ہے۔ اس اعتبار سے جاوید دانشؔ کے ڈراموں( ترجمہ)  میں یہ انفرادیت موجود ہے،کہ ان کے مترجم ڈرامے اپنے  اصل ماحول اور اس کے پس منظر کی چھاپ سے قاری کو متاثر ضرور کرتے ہیں یہ تاثر قاری تک پہچانا بذاتِ خود کمالِ فن ہے۔

    میں نے ان کا پہلا کنیڈین ڈرامہ"ننگے پاؤ"پڑھا،یہ شرلی چی چو کا لکھا ہوا ہے۔ جو ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جسے "نسلی امتیاز"کی پنہائیوں نے داخلی طور پر بے حس کر دیا ہے۔چونکہ یہ ڈرامہ خود ایک عورت کی تحریر ہے اسلئے بھی مصنفہ نے اس میں "شرلی" کے کردار کے ذریعہ ان احساسات کی پر اثر ترجمانی کی ہے۔جو اس کے کردار اور خود کلامی سے عبارت ہے۔ایک ایسی عورت جو استحصال کی مختلف منزلوں سے گزر کر آج قید و بند کی زندگی گزار رہی ہے۔کیوں؟ کیونکہ اس نے ایک" گوری میم"کی پٹائی کر دی تھی۔ دراصل وہ پٹائی بھی نہیں بلکہ اس کا غصہ تھا  اس استحصال کا جس کے نکاس کی شاید یہی صورت اسے مناسب لگی۔ کیونکہ اس کے بعد اس کے اندر کچھ نہیں رہ جاتا، نہ غصہ، نہ غم، نہ نفرت، نہ محبت، اور نہ ہی بدلہ لینے کے کرٔیہ جذبات۔ وہ اب ہر تاثر سے بے نیاز ہوچکی ہے اور مرے ہوئے باپ کو یاد کر تے ہوئے کہتی ہے کہ ۔۔۔۔

                    Mhsin Naquvi Science and Society page3                                         



his site is best viewed by Internet Explorer IE Explorer
This site is © Copyright Aligarh Urdu Club, All Rights Reserved.
Kiteboarding Lessons
KL
Aligarh Urdu Club




Aligarh Urdu Club


   Sorry, your browser doesn't support Java(tm)٫
or Enable Java Applet for your browser.Download Java from Java.com


Please Download and Install Urdu   Fonts from HERE, if you have problems reading our website.



 









        
Click here to join Aligarh_Urdu_Club
  Click to join AUC