Ailgarh Urdu Club quaterly Urdu MagazineDeedahwar

ہم شعور اور ادب

              ادب سے ہمارا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا زبان سے۔ اردو کے معرضِ وجود میں آنے کی وجہ جہاں ایک طرف سیاسی اور تجارتی تھی وہیں دوسری طرف سماجی بھی تھی۔ہماری شناخت  ، ہماری پہچان کی جڑیں بھی اسی مٹی میں پیوست ہیں، جہاں زبانِ اردو کے بیج تناور درخت بنے تھے۔جہاں خوش قسمتی سے اپنی ابتداء میں ہی اسےایسےعاشقِ صادق ملے جن کے شعور کی بالیدگی نے ادب کو عروج بخشا۔ کسی بھی سماج کی ترقی کادارومدار ’معاشرےکے اس طبقہ پر ہوتا ہے جو اپنے معاشرے کے لئے غور و فکر کرتا ہے۔اس وقت ہمارے معاشرے میں ایسی قد آور شخصیات موجود تھیں جن کی انفرادی کوششیں اجتماعی شعور کو بیدار کر رہی تھیں۔ جن کی فکر انگیزی ایسے انقلاب کی تاریخ لکھ رہی تھی جیسے آنے دالے برسوں میں   اپنے ملک و قوم کی زندگی کا رخ بدلنا تھا۔معاشرے کے مختلف طبقوں سے اٹھے یہ لوگ  اپنی فکر سے معاشرے کی تشکیل ِنو کر رہے تھے۔ان حالات میں سب سے بڑی ذمہ داری ہمارے اہلِ قلم نے اپنے شانوں پر اٹھائی ۔ہر عہد کا بڑا  قلم کار اپنے عہد کے مسائل سے کماحقہ واقف  ہی نہیں ہوتا  ،بلکہ اسے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ میرے اطراف  سیاسی ’سماجی ’ اخلاقی’معاشرتی’ تعلیمی ’نفسیاتی سطح پر کیا تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور ان کی کیا وجوہات ہیں۔آیا یہ تبدیلیاں مثبت ہیں یا منفی۔ ہمارے لوگوں اور معاشرے کے لئے یہ کس حد تک مخرب الاخلاق ہیں؟ اور کس حد تک ان سے لوگ مستفید ہو سکتے ہیں؟یہ شعور جب ایک انسان کے ذہن میں نموپذیر ہوتا ہے تب ایک ایسی شخصیت وجود میں آتی ہے جو تاریخ کا رخ بدل دیتی ہے۔

             

          کوئی بھی زبان اپنے معاشرتی اقدار اور اہل ِزبان کے تعاون کے بغیر پروان نہیں چڑھتی۔اردو نے بھی اپنے ماحول کی بھر پور عکاسی کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت جو  ادب  تخلیق ہو رہا تھا وہ اس کے مسائل ہی نہیں بلکہ ان کا حل بھی پیش کر رہا تھا۔ انسانی مسائل سے جوڑے ہونے کی وجہ سے ادب میں انسانی ہمدردی، خلوص، دردمندی، ایثار، قربانی،میل جول، پڑوسیوں کے حقوق ، ان  کی ادائیگی یہ وہ بنیادی باتیں تھیں جس کے زیرِ سایہ ہمارا معاشرہ پروان چڑھا تھا۔  اور جس کی جھلکیاں ہمارے ادب میں نظر آتی ہیں۔غلامی اور پھر انگریزوں کی چالاکی اور عیاری(Divide and rule  policy)  جنگِ آزادی  ، تقسیم ِ وطن، اور اس کے نتیجہ میں مذہبی فساد  کے ماحول نے جو ادب پیدا کیا وہ بہر صورت لازوال ہے۔ کیوں کہ اس وقت قلم کار عام آدمی کے دل کے قریب تھے۔

               

                مگر آج منظر نامہ یکسر بدل چکا ہے۔آج جو ادب تخلیق ہو رہا ہے  مسائل کی باز گشت اس میں بھی سنائی دیتی ہے مگر اس شدّت اور کرب کے ساتھ نہیں جیسے اس وقت تھی۔اصناف ِ ادب پر طبع آزمائی آج بھی جاری ہے مگر اس میں انقلاب کی چنگاری نہیں۔ وہ سماج میں تبدیلی کی دعوت نہیں دیتا۔وہ ہماری آنے والی نسلوں کے ذہنوں کی تشکیل کرنے سے قاصر ہے۔ لفظوں کا کھیل جو محض واو واہی تک محدود ہے۔بے روح و بے مقصد۔ اس" پیروڈی" اور" ریمکس"کے دور میں ہم اپنی ہی تمدنی اساس کا مزاق اڑا رہے ہیں۔

          

                اس کے لئے اکثر مغرب اور اس کی سحر انگیزیوں کو موردِ الزام ٹھرایا جاتا ہے۔ لیکن ہم آخر کب تک مغرب  پر الزم تراشیاں کر کے اپنی کوتاہیوں سے چشم پوشی کرتے رہیں گے۔مشرق اور مغرب میں اس وقت بھی اتنا ہی فرق تھا جتنا آج ہے۔  اقبال اور سر سید نے انگلستان کا دورہ کر کے واپسی پر اپنی قوم کو یہاں کی سحر انگیزی کے قصے نہیں سنائے بلکہ انہونے یہا ں کے نظام ِتعلیم کو اپنایا۔ جو اس وقت (اور آج بھی) امّت ِ مسلم  کی اشّد ضرورت تھی۔

              

             میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ابھی بھی وقت ہے اگر ہم اپنی کوتاہیوں پر نظر ثانی کرلیں۔ اور اپنے  ادب کے ساتھ ہی ساتھ ،ملک  و قوم کو اس بے بسی اور  بد حالی کے دور میں کچھ روشنی دے پائیں ۔ کچھ مثبت کر پائیں۔

٭٭٭٭

 




                                                             



his site is best viewed by Internet Explorer IE Explorer
This site is © Copyright Aligarh Urdu Club, All Rights Reserved.
Kiteboarding Lessons
KL
Aligarh Urdu Club




Aligarh Urdu Club


   Sorry, your browser doesn't support Java(tm)٫
or Enable Java Applet for your browser.Download Java from Java.com


Please Download and Install Urdu   Fonts from HERE, if you have problems reading our website.



 









        
Click here to join Aligarh_Urdu_Club
  Click to join AUC