اتاٹھتا۔گہری
صندوقوں جیسی شکنوں پر کٹوریوں کا عکس ننھی ننھی مشعلوں کی
طرح جگمگا نے لگتا۔ہر ٹانکے پر زری کا کام ہلتا اور مشعلیں
کپکپا اٹھتیں۔
یاد نہیں کب اس کے شبنمی دوپٹے بنے،ٹکے تیار ہوئے اور گاڑی
کے بھاری قبر جیسے صندوق کی تہہ میں ڈوب گئے۔کٹوریوں کے
جال دھندلا گئے۔گنگا جمنی کرنیں ماند پڑ گئیں،طولی کے لچھے
اداس ہوگئے مگر کبریٰ کی برات نہ آئی،جب ایک جوڑا پرانا
ہوجاتا تو اسے چالے کا جوڑا کہہ کر سینت دیا جاتا اور پھر
ایک نئے جوڑے کے ساتھ نئی امیدوں کا افتتاح ہوجاتا۔بڑی
چھان بین کے بعد نئی دلھن چھانٹی جاتی۔ سہ دری کے چوکے پر
صاف ستھری چادر بچھتی۔محلہ کی عورتیں ہاتھ میں پاندان اور
بغلوں میں بچے دبائے جھانجھیں بجاتی آن پہنچتیں۔
”چھوٹے کُرے کی گونٹ تو اترآئے گی،پر بچیوں کا کپڑا نہ
نکلے گا۔“
”بولو!لو اور سنو تو کیا نگوڑی ماری ٹول کی چولیں پڑیں
گی؟“اور پھر سب کے چہرے فکرمند ہوجاتے۔کبریٰ کی ماں خاموش
کیمیاگر کی طرح آنکھوں کے فیتے سے طول و عرض ناپتی اور
بیویاں آپس میں چھوٹے چھوٹے کپڑے کے متعلق کھسر پسر کر کے
قہقہہ لگاتیں ۔ایسے میں کوئی من چلی کوئی سہاگ یا بنا چھیڑ
دیتی۔کوئی اور چارہاتھ آگے والی سمدھنوں کو گالیاں سنانے
لگتی، سنانے لگتی ، بیہودہ، گندے مذاق اور چبلیں شروع ہو
جاتیں۔ایسے موقعوں پر کنواری بالیوں کو سہ دری سے دور سر
ڈھانک کر کھپریل میں بیٹھنے کا حکم دیا جاتا اور جب کوئی
قہقہہ سہ دری سے اُبھرتا تو بے چاریاں ایک ٹھنڈی سانس بھر
کر رہ جاتیں۔
اﷲ!یہ قہقہے!
انھیں خود کو کب نصیب ہوں گے؟“
اس چہل پہل سے دور کبریٰ شرم کی ماری مچھروں والی کوٹھری
میں سر جھکائے بیٹھی رہتی۔اتنے میں کتر بیونت نہایت نازک
مرحلے پر پہنچ جاتی۔ کوئی کلی الٹی کٹ جاتی اور اس کے ساتھ
بیویوں کی مت بھی کٹ جاتی۔کبریٰ سہم کر دروازے کی آڑ سے
جھانکتی۔
یہی تو مشکل تھی۔کوئی جوڑا ﷲ مارا چین سے نہ سلنے
پایا۔جو کلی الٹی کٹ جائے تو جان لو نائن کی لگائئی ہوئی
بات میں ضرور کوئی اڑنگا لگے گا۔ یا تو دولھا کی کوئی رشتہ
نکل آئے گی یا/ اس کی ماں ٹھوس کڑوں کا اڑنگا باندھے گی۔
کو گوٹ میں کان آجائے تو سمجھ لو یا تو مہر پر بات ٹوٹے گی
یا بھرت کے پایوں کے پلنگ پر جھگڑا ہوگا۔چوتھی کے جوڑے کا
شگون بڑا نازک ہوتا ہے۔بی اماں کی ساری مشاق اور سگھڑپا
دھرا رہ جاتا۔جانے عین وقت پر کیا ہوجاتا کہ دھنیا برابر
بات طول پکڑ جاتی۔بسم ﷲ کے زور سے سگھڑماں نے جہیز
جوڑنا شروع کر دیا تھا۔ذرا سی کترن بھی بچتی تو تیلے دانی
یا شیشی کا غلاف سی کر دھنک گو گھرو سے سنوار کر رکھ
دیتیں۔لڑکی کا کیا ہے کھیرے ککڑی کی طرح بڑھتی ہے۔جو برات
آ گئی تو یہی سلیقہ کام آئے گا۔
اور جب سے ابا گزرے ۔سلیقہ کا بھی دم پھول گیا۔حمیدہ کو
ایک دم ابا یاد آگئے۔ابا کتنیدبلے پتلے لمبے جیسے محرم کا
علم۔ایک بار جھک جاتے تو سیدھے کھڑا ہونادشوار تھا۔صبح ہی
صبح اٹھ کر نیم کی مسواک توڑ لیتے اور حمیدہ کو گھٹنے پر
بیٹھا کر نہ جانے کیا سوچاکرتے ۔پھر سوچتے سوچتے نیم کی
مسواک کا کوئی پھونسڑا حلق میں چلا جاتا اور وہ کھانستے ہی
چلے جاتے۔حمیدہ بگڑ کر ان کی گود سے اترآئی۔کھانسی کے
دھکوں سے یوں ہل ہل جانا اس قطعی پسند نہ تھا۔اس کے ننھے
سے غصے پر وہ ہنستے اور کھانسی سینے میں بے طرح الجھتی
جیسے گرد کٹے کبوتر پھڑ پھڑا رہے ہوں۔پھر اماں آکر انھیں
سہلا دیتیں۔پیٹھ پر دھپ دھپ ہاتھ مار تیں۔
”تو بہ ہے، ایسی بھی کیا کھانسی؟“