Ailgarh Urdu Club quaterly Urdu MagazineDeedahwar

چوتھی کا جوڑا

                                                 عصمت چغتائ
سہ دری کے چوکے پر آج پھر صاف ستھری جازم بچھی تھی ۔ٹوٹی پھوٹی کھپریل کی جھاڑیوں میں سے دھوپ کے ٓاڑھے ترچھے قتلے پورے دالان میں بکھرے ہوئے تھے۔ محلے ٹولے کی عورتیں خاموش اور سہمی ہوئی سی بیٹھی تھیں جیسے کوئی بڑی واردات ہونے والی ہو۔ماؤں نے بچے چھاتیوں سے لگا لئے تھے۔کبھی کوئی منہنی سا چڑ چڑا بچہ رسد کی کمی کی دہائی دے کر چلا اٹھتا ۔
”نائیں نائیں میرے لال!“ دبلی پتلی ماں اسے اپنے گھٹنے پر لٹا کر یوں ہلاتی جیسے دھان ملے چاول دھوپ میں پھٹک رہی ہو۔اور پھر ہنکارے بھر کر خاموش ہوجاتا۔
آج کتنی آس بھری نگاہیں کبریٰ کی ماں کے متفکر چہرے کو تک رہی تھی، چھوٹے عرض کی ٹول کے دو پاٹ تو جوڑ لئے گئے تھے،مگر ابھی سفید گزی کا نشان بیونتنے کی کسی کو ہمت نہ پڑی تھی۔کاٹ چھاٹ کے معاملہ میں کبریٰ کی ماں کا مرتب بہت اونچا تھا۔ان کے سوکھے سوکھے ہاتھوں نے نا جانے کتنے جہیز سنوارے تھے،کتنے چھٹی چھوچھک تیار کئے تھے اور اتنے ہی کفن بیونتے تھے۔جہاں کہیں محلے میں کپڑا کم پڑجاتا اور لاکھ جتن پر بھی بیونت نہ بیٹھتی، کبریٰ کی ماں کے پاس لایا جاتا۔ کبریٰ کی ماں کپڑے کی کان نکالتی، کلف توڑتی،کبھی تکون بناتی ،کبھی چوکھنٹا کرتے اور دل ہی دل میں قینچی چلاکر آنکھوں سے ناپ تول کر مسکرا پڑتی۔
”آستین کے لئے گھیر تو نکل آئے گا،گریباں کے لئے کترن میری بقچی سے لے لو۔“اور مشکل آسان ہوجاتی۔کپڑا تراش کر وہ کترنوں کی پنڈی بناکرپکڑا دیتیں۔
پر آج تو سفید گزی کا ٹکڑا بہت ہی چھوٹا تھا اور سب کو یقین تھا کہ آج تو کبریٰ کی ماں بھی ناپ تول ہار جائے گی،جب ہی تو سب دم سادھے ان کا منہ تک رہی تھیں۔کبریٰ کی ماں کے پُر استقلال چہرے پر فکر کی کوئی شکن نہ تھی ،چار گرہ گزی کے ٹکڑے کو وہ نگاہوں سے بیونت رہی تھیں۔لال ٹول کا عکس ان کے نیلگو زرد چہرے پر شفق کی طرح پھوٹ رہا تھا۔وہ اُداس گہری جھریاں اندھیری گھٹاؤں کی طرح ایک دم اُجاگر ہو گئیں،جیسے گھنے جنگل میں آگ بھڑک اٹھی ہو،اور انھوں نے مسکرا کر قینچی اٹھالی۔
محلہ والیوں کے جمگھٹے سے ایک لمبی اطمنان کی سانس اُبھری۔گود کے بچے بھی پٹخ دے گئے۔ چیل جیسی نگاہوں والی کنواریوں نے جھپا جھپ سوئی کی ناکوں میں ڈورے پروئے،نئی بیاہی دلہنوں نے انگشتا نے پہن لئے۔کبریٰ کی ماں کی قینچی چل پڑی تھی۔
سہ دری کے آخری کونے میں پلنگڑی پر حمیدہ پیر لٹکائے ہتھیلی پر تھوڑی رکھے دور کچھ سوچ رہی تھی ۔ دوپہر کا کھانا نمٹا کر اسی طرح بی اماں سہ دری کی چوکی پر جا بیٹھتی ہیں اور بقچی کھول کر رنگ برنگے کپڑوں کا جال بکھیر دیا کرتی ہیں۔کونڈھی کے پاس بیٹھی مانجھتی ہوئی کبریٰ کن انکھیوں سے ان لال کپڑوں کو دیکھتی تو ایک سرخ جھپکی اس کے زردی مائل مٹیائے رنگ میں لپک اٹھتی۔رو پہلی کٹوریوں کے جال جب پولے پولے ہاتھوں سے کھول کر اپنے زانوؤں پر پھیلاتیں تو ان کامرجھایا ہوا چہرہ ایک عجیب ارمان بھری روشنی سے جگمگا


                    Deedahawar Urdu Literary magazine of Aligarh urdu Club                                         



his site is best viewed by Internet Explorer IE Explorer
This site is © Copyright Aligarh Urdu Club, All Rights Reserved.
Kiteboarding Lessons
KL
Aligarh Urdu Club




Aligarh Urdu Club


   Sorry, your browser doesn't support Java(tm)٫
or Enable Java Applet for your browser.Download Java from Java.com


Please Download and Install Urdu   Fonts from HERE, if you have problems reading our website.



 









        
Click here to join Aligarh_Urdu_Club
  Click to join AUC