"چاند چہرہ"
(ذرّہؔ حیدر آبادی)
رضیہ مشکور
"دیدہ
ور" میں جب ذرّہ حیدر آبادی کی ایک غزل شامل کی
تھی تب مجھے نہیں معلوم تھا کی یہ غزل ان کے مجموعۂ
کلام" چاند چہرہ" کی پہلی ہی غزل ہوگی۔ غزل
اچھی تھی اسلئے شامل کرلی تھی۔ اب جو "چاند
چہرہ" پڑھنا شروع کیا تب شاعر کی انفرادیت کا
احسان ہوا۔ میرے نذدیک سادگی کا تاثر زیادہ دیر پا
ہوتا ہے۔اور ذرّہؔ صاحب کے کلام میں سادگی اپنی
تمامتر
تاثر کے ساتھ موجود ہے۔
گیت ایسا سناؤں گا میں
مدتوں یاد آؤں گا میں
0
چھپ نہ پائے گا وہ بے وف
شور ایسا مچاؤں گا میں
0
ایک اور
سادگی کی مثال دیکھئے۔۔۔
خدا نہ لائے فقیری کسی پہ ایسی بھی
پئے دو جام تو
ساقی
حساب کر
تا ہے
0
سنائے گا قصے زمانے
کے وہ
کہانی میں کہتا نئی جاؤں گ
شاعر کا
وجدان ہی اس کی اثاث ہوتی ہےذرّہ صاحب بھی اپنی
وجدانی و روحانی جدتوں کا بر ملا اظیار کرتے نظر آتے
ہیں۔
دکھایا ہاتھ تو مجھ سے کہا نجومی نے
ہمارے ساتھ چلو ساتھ کام کرتے ہیں
0
میرے نذدیک
ذرّ ہ صاحب کی شاعری کا محور محبت ہے ازلی محبت جو
سود و زیاں سے آزاد ہے۔
ہم سے مت پونچھ کیسا ہے دل
ہم جواری ہیں ہارے ہوئے
0
میں اس میں ہوں اس کے لہو کی طرح
یہ ممکن نہیں
بھول
جائے
مجھے
0
اٹھ گئے تیری محفل سے سب
اب کہاں در بدر جائے گ
0
کمال یہ ہے
کہ ہر نفع نقصان سے پرے ہو کر بھی شاعر کا دل
امید کی
کرن بجھنے نہیں دیتا۔۔۔۔
جلا کر اک دیا رکھتا ہوں ہر شب
کوئی تو آئے گا میرے مکاں تک
0
صلح کی
تمنّا بھی ہے ۔۔۔
تم کو بھی سمجھایا جائے
مجھ کو بھی سمجھایا جائے
0