علیگڑھ کی یادیں
محمد طارق غازی
میرا علیگڑھ جانا میرے کسی خواب کی تعبیر نہیں بلکہ
حقیقتاً فرار تھا۔۔۔۔
جون ۱۹۵۹ کی ایک صبح تھی جب پونہ بورڈ کا ایس ایس سی
کا رزلٹ آیا اور میرا نام کامیاب امیدواروں میں
تھا۔لیکن اس سے بہت پہلے مجھے اس بات کا اندازہ ہو
چکا تھا کہ علم الحساب میرا میدان نہیں جو انجینئر
بننے کے لئے پہلی شرط تھااور جس کا خواب میرے والدین
دیکھ رہے تھے۔ اس اعتبار سے میں ایک نا خلف اولاد
ثابت ہوا!
مجھے یاد ہے کہ جب میں پرائمری اسکول میں پڑھ رہا تھا
اس وقت میرے ذہن میں یہ بات بہت پختگی کے ساتھ جمی
ہوئی تھی کہ میں ایک بہت بڑا اور ماہر انجینئر ہوں
اور ایک دن میں نے اباجان کی لائبریری کی ایک کتاب کی
پشت پر اپنا نام مع تمام انجیئرنگ کی ڈگری کے لکھ دیا
تھا۔مجھے یقین ہے کہ وہ کتاب اب بھی شکاگو میں اقرأ
انٹرنیشنل فاوٴنڈیشن کی لائبریری میں ہوگی لیکن ذرا
ٹھہرئے! میرے مستقبل کی انجینئرنگ کی ڈگری تھی بی اے۔
ایل ایل بی جو میرے نزدیک سب سے بڑی ڈگری تھی جو کوئی
بھی یونیورسٹی کسی طالب علم کو دے سکتی تھی۔ او ر
میرے نزدیک ایک انجینئر سے زیادہ کوئی قابل ہو ہی
نہیں سکتا تھا۔ یہی نہیں اس خوف سے کہ لوگ اپنی کم
علمی کے سبب ممکن ہے انجینئرنگ کی ڈگری سے واقف نہ
ہوں اس لئے ڈگری کے بعد میں نے قوسین میں انجینئر بھی
لکھ دیا تھا۔
پھر ایک دن زندگی کا دھارا ہی بدل گیا۔ ۱۹۵۵ءء کی ایک
صبح تھی جب ہم نے اسکول میں دیکھا کہ عبد الحمید اور
وسیم احمد دونوں مل کر الجبرا میں ذو اضعاف اقل سے
متعلق ایک مشکل سوال حل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے
ہیں ۔ آٹھویں جماعت کے یہ دو طالب علم مجھ سے ایک سال
سینئر تھے۔ ہماری جیومیٹری بہت اچھی تھی اور اگلے سال
ہمارا الجبرا سے تعارف ہونے والا تھا۔مجھے ذو اضعاف
اقل ڈھونڈنے کا طریقہ نہ صرف دلچسپ بلکہ آ سان بھی لگ
رہا تھا لیکن جب میں نے اپنی دلچسپی کا اظہار کرنا
چاہا تو دونوں مجھے گھورنے لگے اور وسیم احمد نے کہا:
” توپاگل ہو گیا ہے کیا؟ اگلے سال پتہ چلے گا بِڑو کہ
الجبرا کتنا مشکل ہے۔“ عبد الحمید نے بھی مجھے یہ
سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ بچوں کا کھیل نہیں ۔ اس وقت
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مستقبل کے ایک انجینئر کا
خواب ہمالیہ پہاڑ کے نیچے آ کر چکنا چور ہو گیا۔
عرصے بعد ایک بار بمبئی کی ایک شاہراہ پر جب میں نے
ایک ٹیکسی کو آ واز دی اور ٹیکسی سامنے آ کر رکی تو
میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ڈرائیور کی سیٹ پر خاکی
وردی میں ملبوس عبدالحمید کو دیکھا ۔ اس نے مجھے نہیں
پہچانا جب میں نے پوچھا کہ تم عبد الحمید ہی ہو نا؟
کیا وسیم اب بھی حاجی ہوٹل کے کیش کاوٴنٹر پر
بیٹھتا ہے؟ تو ان سوالوں سے کچھ پریشان ضرور ہو گیا
اور کہا :” اے ! تو کون ہے؟“ میں نے اس سے کہا ۔ فکر
مت کرو ہم بھی ہاشمیہ اسکول ہی کے پڑھے ہوئے ہیں لیکن
اس نے پھر کوئی بات نہیں کی اور بغیر کچھ کہے ہاشمیہ
اسکول سے نزدیک ہی مینارہ مسجد محمد علی روڈ پر مجھے
چھوڑ کر آگے نکل گیا۔ البتہ اس نے پورا کرایہ وصول
کیا جو اس کا حق تھا۔
بھلا ایک ہونے والا انجینئر کیا کر سکتا ہے جب اس کی
گاڑی ہی پٹری سے اتر جائے اور ٹھیک ہونے کے قابل بھی
نہ رہے۔ اس دن مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ ہم
الخوارزمی کے علوم کے وارث نہیں بن سکتے۔ لیکن اپنا
یہ خیال اپنے والدین کو نہیں بتایا ایک سربستہ راز کی
طرح اس کی حفاظت کرتے رہے ۔ اسی لئے جب اباجان نے
میرا داخلہ بمبئی کے اسمعٰیل یوسف کالج میں سائنس کے
پہلے سال میں کر وایا

|
his site is best viewed
by Internet Explorer
 This site is © Copyright Aligarh Urdu
Club, All Rights Reserved.

KL |
|
|
Please Download and Install Urdu Fonts from
HERE, if you have problems
reading our website.

Click to join AUC
|