ابّو شجر سایہ دار
رضیہ مشکور
(رضیہ مشکور ڈاکٹر ابن فرید صاحب مرحوم کی
بہو ہیں جنھوں نے ڈاکٹر صاحب کی حیات ہی میں مرتبہ اس
تاثراتی تحریر کے ذریعہ ان کو خراج عقیدت پیش کیا
تھا۔الف۔ نون)
جب ۲۰۰۲ء میں ابّو پر ادارہ ادب اسلامی ہند کے زیر
اہتمام سمینار کی تاریخ فائنل ہوئی تو میرا بڑا دل
چاہا کہ میں بھی ابّو پر ایک مضمون لکھوں اور سمینار
میں پڑھوں، لیکن ابّو کی اجازت کے باوجود اپنے اندر
حوصلہ پیدا نہ کر پائی،اس خواہش کو پھر کسی اور وقت
کے لئے اٹھارکھا۔جب سمینار ہوا تو اس وقت بھی میں
ابّو کے ساتھ تھی اور بے طرح کفِ افسوس مل رہی تھی کہ
ابّو کے ادبی و شخصی پہلوٴں پر سمینار ہو رہا ہے اور
میرے تاثرات اس میں شامل نہ ہو سکے۔ پھر سمینار کے
مقالے سن کر تو اور زیادہ اس کمی کا احساس ہوا کہ سب
نے ہی ابّو کی ادبی کاوشوں کا اعتراف کیا،لیکن ذاتی
زندگی سے متعلق کوئی مقالہ نہ پڑھا گیا۔ جب کہ اس
پہلو پر بھی کچھ نہ کچھ تاثرات کا اظہار ضروری
تھا۔اتنے کامیاب سمینار میں اس کمی کا احساس لئے ہم
گھر واپس آگئے۔ابّو سے جب میں نے اس بات کا ذکر کیا
تو ابّو کا جواب تھا:
”بٹیا ،میں نے تو تم سے کہا تھا کہ ذاتی نوعیت کا
مضمون تم ہی لکھ سکتی ہو، ہر وقت ساتھ رہتی ہو،میری
خوبیوں اور خامیوں سے واقف ہو،لیکن تم نے اس طرف توجہ
ہی نہیں دی۔“
میں اپنی اس غلطی کو مان کر خاموش ہو گئی ،لیکن اب جب
کہ تمام مقالات کو کتابی شکل میں شائع کیا جارہا ہے
تو میں خود کو روک نہ سکی،یہ تاثرات قطعی ذاتی نوعیت
کے ہیں، کہ ذات کے آئینہ سے دیکھو تو اعتراض کے بھی
کئی پہلو نکلتے ہیں۔ویسے میرے خیال میں کسی بھی شخصیت
کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنا مشکل کام ہوتا
ہے،اسی طرح اگر کسی شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع
ملا ہو اور اس سے ذہنی اور جذباتی رشتہ بھی ہو توایسی
صورت میں اس کے متعلق رائے قائم کرنے میں اعتدال اور
توازن قائم رکھنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔بہت دورسے
دیکھنے کی صورت میں اس کے نقوش دھندلا جاتے ہیں،لیکن
نظر میں توازن رکھیں تو شخصیت کے خطوط واضح ہوجاتے
ہیں۔یہ تاثرات چونکہ بہت قریب کے ہیں اس لیے ممکن
ہے،چند باتوں پر اختلاف کی صورت پیداہوجائے،حالانکہ
میں نے آئندہ سطور میں اختلافِ رائے سے بچنے کی
امکانی کوشش کی ہے۔میں اس کوشش میں کتنی کامیاب ہوئی
ہوں اس کا فیصلہ قارئین ہی کریں گے۔
ابّو سے میری پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب میں رخصت ہو
کر رامپور آئی میرے گھر میں داخل ہونے کے چند سیکنڈ
بعد لائٹ چلی گئی۔اس سے پہلے کہ جنریٹر آن ہو روشنی
آئے اور سب گھر والوں سے میرا تعارف کرایا جائے،ایک
آواز آئی ، ”مدّو!“
جواب میں ایک عورت کی ”ہوں“ کی آواز سنائی دی،پھر ایک
شعر سنا:
وہ آئے بزم میں اتنا تو میرؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
|
his site is best viewed
by Internet Explorer
 This site is © Copyright Aligarh Urdu
Club, All Rights Reserved.

KL |
|
|
Please Download and Install Urdu Fonts from
HERE, if you have problems
reading our website.

Click to join AUC
|