رہتی
تھی۔ہر کوئی اسے کسی نہ کسی کام کے لئے کہہ دیتا اور ایک ہی
وقت میں اسے کئی کام کرنے پڑجاتے۔ادھر بدو چیختا ”آپا میرا
دلیا۔“ ادھر ابا گھورتے ”سجادہ ابھی تک چائے کیوں نہیں
بنی۔“بیچ میں اماں بول اٹھتی”بٹیا دھوبی کب سے باہر کھڑا
ہے“اور آپا چپ چاپ سارے کاموں سے نپٹ لیتی۔یہ تو میں خوب جانتی
تھی مگر اس کے باوجود جانے کیوں اسے کام کرتے ہوئے دیکھ کر یہ
محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ کام کر رہی ہے یا وہ اتنا کام کرتی
ہے۔مجھے تو بس یہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ بیٹھی ہی رہتی ہے اور
اسے ادھر سے ادھر گردن موڑنے میں بھی اتنی دیر لگتی ہے اور
چلتی ہے تو چلتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی۔اسکے علاوہ میں نے آپا
کو کبھی قہقہ مار کر ہنستے ہوئے نہیں سنا۔زیادہ سے زیادہ مسکرا
دیا کرتی تھی اور بس۔البتہ وہ اکثر مسکرایا کرتی۔جب وہ مسکراتی
تو اسکے ہونٹ کھل جاتے اور آنکھیں بھیگ جاتیں۔ہاں تو میں
سمجھتی تھی کہ آپا بیٹھی ہیرہتی ہے۔زرا نہیں ہنستی اور بن چلے
لڑھک کر یہاں سے وہاں پہنچ جاتی ہے جیسے کسی نے اسے دھکیل دیا
ہو۔اسکے برعکس ساحرہ کتنے مزے میں چلتی تھی۔جیسے دادرے کی تال
پر ناچ رہی ہو۔اور اپنی خالہ زاد بہن ساجو باجی کو چلتے دیکھ
کر میں کبھی نہ اکتائی۔جی چاہتا تھا کہ باجی ہمیشہ میرے پاس
رہے اورچلتی چلتی اسی طرح گردن موڑ کر پنچم آواز میں کہے”ہیں
جی،کیوں جی؟“اور اسکی کالی کالی آنکھوں کے گوشے مسکرانے
لگے۔باجی کی بات بات مجھے کتنی پیاری تھی۔
ساحرہ اور ثریا ہمارے
پڑوس میں رہتی تھیں۔ دن بھر انکا مکان ان کے قہقہوں
سے گونجتا رہتا جیسے کسی مندر میں گھنٹیاں بج رہی
ہوں۔بس میراجی چاہتا تھا کہ انہیں کے گھر میں
جارہوں۔ہمارے گھر میں رکھا ہی کیا تھا۔ایک بیٹھ رہنے
والی آپا ایک”یہ کرو وہ کرو“والی اماں اور دن بھر حقے
پر گڑ گڑانے والے ابا۔
اس روز جب میں نے ابا کو امی سے کہتے سنا۔”سچ تو یہ
ہے کہ مجھے بے حد غصہ آیا۔“ابا کہنے لگے۔”سجادہ کی
ماں۔معلوم ہوتا ہے کہ ساحرہ کے گھر میں بہت سے برتن
ہیں۔“
”کیوں ۔“اماں پوچھنے لگی۔
کہنے لگے۔”بس تمام دن برتن بجتے رہتے ہیں اور یا
قہقہے لگتے ہیں جیسے میلہ لگا ہو۔“
اماں تنک کر بولیں۔”مجھے کیا معلوم۔آپ تو بس لوگوں کے
گھر کی طرف کان لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔“
ابا کہنے لگے!”افوہ۔میرا تو یہ مطلب ہے کہ جہاں لڑکی
جوان ہوئی۔برتن بجنے لگے۔بازار کے موڑ تک لوگوں کو
خبر ہوجاتی ہے کہ فلاں گھر میں لڑکی جوان ہو چکی ہے
مگر دیکھو ناہماری سجادہ میں یہ بات
نہیں۔“میں نے ابا کی بات سنی
اور میرا دل کھولنے لگا۔بڑی آئی ہے سجادہ۔جی
ہاں۔اپنی بیٹی جو ہوئی ۔اس وقت میرا جی چاہتا تھا
کہ جا کے باورچی خانے میں بیٹھی ہوئی آپا کا منہ
چڑاؤں۔اسی بات پر میں نے دن بھر کھانا نہ کھایا اور
دل ہی دل میں کھولتی رہی۔ابا جانتے ہی کیا ہیں۔بس
حقہ لیا اور گڑ گڑ لیا یا زیادہ سے زیادہ
کتاب کھول کر بیٹھ گئے اور گٹ مٹ گٹ مٹ کرنے لگے
جیسے کوئی بھٹیاری مکی کے ببھون رہا ہو۔سارے
گھر میں لے دے کے صرف تصدق بھائی ہی تھے جو دلچسپ
باتیں کیا کرتے تھے اور جب ابا گھر پر نہ ہوتے تو
وہ بھدی آواز میں گایا بھی کرتے تھے!
چپ چپ سے وہ بیٹھے ہیں آنکھوں میں نمی سی ہے
نازک سی نگاہوں میں نازک سا افسانہ
آپا انہیں گاتے سن کر کسی نہ کسی بات پر مسکرا دیتی
اور کوئی بات نہ ہوتی تو وہ بدو کو ہلکا سا تھپڑ
مار کر کہتی۔”بدو رونا“ اور پھر آپ ہی بیٹھی
مسکراتی رہتی۔
تصدق بھائی میرے پھوپھا کے بیٹھے تھے۔انہیں ہمارے
گھر آئے کوئی یہی دو ماہ ہوئے تھے۔کالج میں پڑھتے
تھے۔پہلے تو وہ بورڈنگ میں رہا کرتے تھے۔پھر ایک دن
جب پھوپھی آئی ہوئی ھی تو باتوں میں انکا ذکر
چھڑگیا۔پھوپی کہنے لگی بورڈنگ میں کھانے کا انتظام
ٹھیک نہیں۔لڑکا آئے دن بیمار رہتا ہے۔اماں اس بات
پر خوب لڑیں۔ کہنے لگیں۔اپنا گھر موجود ہے تو
بورڈنگ میں پڑے رہنے کا مطلب