Ailgarh Urdu Club quaterly Urdu MagazineDeedahwar

   آپا

                           ممتاز مفتی

جب کبھی بیٹھے بٹھائے مجھے آپا یاد آتی ہے تو میری آنکھوں کے آگے ایک چھوٹا سابلّوری دیا آجاتا ہے جو مدھم لو سے جل رہا ہو۔
مجھے یاد ہے ایک رات ہم سب چپ چاپ باورچی خانہ میں بیٹھے ہوئے تھے،میں آپا اور امّی جان‘ کہ چھوٹا بدّو بھاگتا ہوا آیا۔ ان دنوں بدّو یہی چھ سات سال کا ہوگا۔کہنے لگا” امی جان!میں بھی باہ کروں گا۔“
”اوہ ‘ابھی سے!امّاں نے مسکراتے ہوئے کہا۔پھر کہنے لگیں ۔”اچھا بدو تمہا را بیاہ آپا سے کر دیں؟“
”اونہو!“بدو نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
اماں کہنے لگیں”کیوں آپا کو کیا ہے؟“
”ہم تو چھا جو باجی سے بیاہ کریں گے۔“بدو نے آنکھیں چمکاتے ہوئے کہا۔
اماں نے آپا کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہنے لگیں”کیوں دیکھو تو آپا کیسی اچھی ہیں۔“
”میں بتاؤں کیسی ہے؟“وہ چلایا۔
”ہاں بتاؤ تو بھلا۔”اماں نے پوچھا۔بدو نے آنکھیں اٹھا کر چاروں طرف دیکھا جیسے کچھ ڈھونڈ رہا ہو۔ پھر اسکی نگاہ چولہے پر آرکی۔چولہے میں اُپلے کا ایک جلا ہوا ٹکڑا پڑا تھا۔بدو نے اسکی طرف اشارہ کیا اور بولا ”ایسی۔“پھر بجلی کے روشن بلب کی طرف انگلی اٹھا کر چیخنے لگا”اور چھاجو باجی ایسی۔“اس بات پر ہم سب دیر تک ہنستے رہے۔اتنے میں تصدق بھائی آگئے۔اماں کہنے لگیں ”تصدق بدو سے پوچھنا کہ آپا کیسی ہیں۔“آپا نے تصدق بھائی کو آتے ہوئے دیکھا تو منہہ موڑ کر یوں بیٹھ گئیں جیسے ہنڈیا پکانے میں منہمک ہو۔
”ہاں تو کیسی ہے آپا بدو“ وہ بولے۔”بتاؤں “بدو چلایا اور اس نے اُپلے کا ٹکڑا اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔غالباَ۔ وہ اسے ہاتھ میں لے کر ہمیں دکھانا چاہتا تھا مگر آپا نے جھٹ اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور انگلی ہلاتے ہوئے بولی۔”اونہہ۔“ بدورونے لگا تو ماں کہنے لگی”پگلے اسے ہاتھ میں نہیں اٹھاتے۔اسمیں چنگاری ہے۔”وہ تو جلا ہوا ہے اماں۔“بدو نے بسورتے ہوئے کہا۔اماں بولیں ”میرے لال تمہیں معلوم نہیں اسکے اندر آگ ہے۔ اوپر سے نہیں دکھائی دیتی۔“بدو نے بھولے پن سے پوچھا ۔”کیوں آپا۔اسمیں آگ ہے کیا؟“اس وقت آپا کے منہ پر ہلکی سے سرخی دوڑ گئی۔”میں کیا جانو۔“وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی اور پھنکنی اٹھا کر جلتی ہوئی آگ میں بے مصرف پھونکیں مارنے لگی۔
اب میں سمجھتی ہوں کہ آپا دل کی گہرائیوں میں جیتی تھی۔اور وہ گہرائیاں اتنی عمیق تھیں کہ بات ابھرتی بھی تو نکل نہ سکتی۔اس روز بدو نے کیسے پتے کی بات کہی تھی۔مگر میں کہا کرتی تھی۔آپا تم تو بس بیٹھ رہتی ہو اور وہ مسکرا کر کہتی’پگلی‘ا ور اپنے کام میں لگ جاتی۔ویسے تو وہ سارا دن کام میں لگی

                 Mhsin Naquvi Science and Society page3                                         

his site is best viewed by Internet Explorer IE Explorer
This site is © Copyright Aligarh Urdu Club, All Rights Reserved.
Kiteboarding Lessons
KL
Aligarh Urdu Club




Aligarh Urdu Club


   Sorry, your browser doesn't support Java(tm)٫
or Enable Java Applet for your browser.Download Java from Java.com


Please Download and Install Urdu   Fonts from HERE, if you have problems reading our website.



 









        
Click here to join Aligarh_Urdu_Club
  Click to join AUC