Ailgarh Urdu Club quaterly Urdu MagazineDeedahwar

 آگ

شاہین نظر ۔جدہ

بڑھیا تڑپ اُٹھی۔
''ہائے میری مرغی''
جب تک لوگ پوری طرح متوجہ ہوتے اور معاملے کو سمجھتے بلامنھ میں مرغی کو دبوچے منظر سے غائب ہو چکا تھا۔ لوگ بڑھیا کے ارد گرد جمع ہونے لگے۔ بقیہ لوگوں نے اپنی اپنی مرغیوں کو ڈربے میں ڈالنا شروع کردیا اور ماؤں نے اپنے اپنے ننھے منوں کو گود میں لے کر چمٹا لیا۔
"عجیب آفت ہے "ایک طرف سے بے بسی کا اظہار ۔۔ہوا
مگر کب تک یہ سب چلے گا۔ہمیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہوگا دوسری طرف سے ایک آوازابھری، جس پر کئی آوازوں نے لبیک کہا۔"آخر ہم کب تک اپنی مرغیاں گنواتے رہیں گے۔ہمیں کوئی کاروائی ضرور کرنی چاہئے"۔
اسی بیچ کسی نے آکرخبر دی کہ بلے کو حویلی کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔ اس اطلاع کے ملتے ہی سارے لوگ ایک ساتھ آٹھ کھڑے ہوئے۔ جس کے ہاتھ میں جو آیااسے لے کر وہ حویلی کی طرف د وڑا" آج اگر بلا ہاتھ آگیا تو اس کی خیر نہیں"ایک نوجوان نے پُر عزم لہجے میں کہا۔'' ہاں ہاں تم ٹھیک کہتے ہو اسے ختم کرکے ہی دم لینا ہے ''دوسرے نوجوانوں نے حامی بھری۔
حویلی والوں نے بلا روک ٹوک لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ بلے کے ظلم سے وہ لوگ بھی پریشان تھے۔بلے کاپتہ لگانے میں دیر نہیں لگی۔ اس کے منھ میں دبی مرغی کے خون نے جو لکیربنائی تھی وہ لوگوں کو نالی کی طرف لے گئی۔سرنگ نمانالی جو ویسے تومحض سیال مادے کی نکاسی کا ذریعہ تھی مگر اپنے حجم اور اپنی لمبائی اور چوڑائی کی وجہ سے اپنے اندر بڑی پرُاسراریت لئے ہوئی تھی۔
''بلے کے نالی کے اندر جانے کا مطلب ہے کہ وہ ابھی وہیں ہوگا۔ اسے اپنے شکار کو کھانے کی اس سے اچھی جگہ کہاں مل سکتی ہے ''ایک شخص بولا۔
''کیوں نہ نالی کا منھ دوسری طرف سے بند کردیا جائے۔ بلا اندر ہی گھٹ کرمرجائے گا'' دوسرے شخص نے تجویز پیش کی۔ لوگوں کو یہ تجویزاتنی پسند آئی کہ آناََ فاََ نالی کے دونوں سروں پر حصارڈال دیا گیا۔
پھر ایک دوسری تجویز آئی کہ نالی میں آگ ڈال دی جائے تاکہ بلا وہیں جل کر خاک ہوجائے۔ یہ تجویز بھی لوگوں کو پسند آئی اور اس کی تیاریں شروع کردی گئیں۔
اب بلے کی موت یقینی تھی۔ نوجوانوں نے اپنی اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا مگر بھیڑ میں سے کچھ فکرمند آوازیں بھی ابھریں۔ ''کسی کو بھی اس طرح مارنا کہاں تک مناسب ہے ''ایک بزرگ نے سوال اُٹھایا۔
مجمع پرسناٹاچھاگیا۔
''حضور آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ اس بلے نے پورے گاؤں میں دہشت پھیلا رکھی ہے۔ اسے آج ختم نہیں کیا تو یہ ہماری باقی مرغیاں بھی کھاجائے گا'' ایک نوجوان نے بزرگ کے اعتراض کا جواب دیا۔
''نہیں بیٹا تم پوری بات سمجھ نہیں رہے ہو۔ اس بلے کو ماردیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں''بزرگ نے اپنی بات جاری رکھی،'' اس نے چند مرغیاں ہی تو کھائی ہیں۔ ہمارے پاس ویسے بھی مرغیوں کی بھر مار ہے ۔ چند مرغیاں نہیں سہی''
اس بیان پر کچھ لوگ بھڑک اُٹھے ۔''آپ بے کار کی باتیں کر رہے ہیں ۔ آپ کی باتیں ہمیں بزدل بنا دیں گی۔آپ کو شائد مرغیوں سے محبت بھی نہیں''۔ ایک طرف سے غصیلی آواز ابھری۔

                    Mhsin Naquvi Science and Society page3                                         



his site is best viewed by Internet Explorer IE Explorer
This site is © Copyright Aligarh Urdu Club, All Rights Reserved.
Kiteboarding Lessons
KL
Aligarh Urdu Club




Aligarh Urdu Club


   Sorry, your browser doesn't support Java(tm)٫
or Enable Java Applet for your browser.Download Java from Java.com


Please Download and Install Urdu   Fonts from HERE, if you have problems reading our website.



 









        
Click here to join Aligarh_Urdu_Club
  Click to join AUC