تب سے وہ اس خلجان میں
مبتلا ہوگیا: آخر اس لڑکی کا چہرہ جانا پہچانا ساکیوں
لگا تھا؟کوئی بات تو تھی۔ کیا بات تھی؟ دونوں باتیں
ایک دوسری سے ٹکرا جاتیں۔ اس کے تصور میں بہت شدید
تصادم ہوتا اوروہ شل ہو جاتا۔ایسا کبھی کیوں ہو جایا
کرتا ہے؟بے وجہ کا ایک دکھ پیدا ہو تا ہے اور برابر
ستایا کرتا ہے۔جھنجھلا کر وہ اس کشمکش کو فراموش
کردیتا ،لیکن اچانک پھر کسی جگہ وہ اس کے سامنے
آجاتی، اسے بہت احترام سے سلام کرتی اور نظر نیچی
کرکے آگے بڑھ جاتی۔یہ کون ہے؟ کون ہو سکتی ہے؟ نہ
جانتے ہوئے بھی یہ اتنی مانوس کیوں لگ رہی تھی؟لیکن
یہ معمّہ حل نہیں ہورہا تھا۔ اس کے حل ہونے کی ضرورت
بھی کیا تھی؟ زچ ہوکر وہ ذہن کا بوجھ جھٹک کر پھینک
دیتا۔بڑا سکون محسوس ہوتااسے اس عالم
میں!
بچوں کا کوئی فنکشن
تھا۔وہ بہت غور سے دیکھ رہاتھا۔ پاس بیٹھی ہوئی دس
بارہ سال کی بچی انعام لے کرابھی دوبارہ اس کی بغل کی
سیٹ پر بیٹھی تھی۔ اس نے جیب سے چاکلیٹ کابار نکالا
اور بچی کی طرف بڑھا دیا۔بچی کی بغل میں بیٹھی میڈم
نے بچی کو کھینچ کر سیٹ پر سے اٹھا لیا اور اپنی بغل
میں بیٹھی ہوئی بڑی لڑکی کو اس سیٹ پر بٹھا دیا۔بڑی
لڑکی نے اسے بڑے احترام سے سلام کیا اورچاکلیٹ لے
لی۔میڈم نے اپنی انتہائی ناگواری کا اظہار اس طرح کیا
کہ وہ ان دونوں لڑکیوں کو لے کر آڈیٹوریم سے باہر چلی
گئیں۔جاتے جاتے اسے نظر آیا کہ یہ تو وہی ہیں۔اس نے
اطمینان کی ٹھنڈی سانس لی۔اچھا، تو یہ اُنسیت اس وجہ
سے تھی۔
ایک شام ،ایک پارٹی میں شرکت کے لئے وہ گیا ہوا تھا۔
ایک میز کے پاس سے گزرا تو اس لڑکی نے اسے بڑے ادب سے
سلام کیا۔اس نے بہت شفقت سے جواب دیا۔اس کی ماں تلملا
گئی۔ وہ خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔ کیا وہ اتنا قابلِ
نفرین ہے؟ اسے بددلی ہوئی، مگر اس نے کسی ردعمل کا
اظہار نہ کیااور آگے بڑھ گیا۔اگلی میز پر اس کا دوست
بیٹھا ہواتھا۔وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کے بد حظ
چہرے نے دوست کو متوجہ کر لیا۔
”کیا بات ہے؟کیوں؟ کیا ہوا؟“
”یہ فیملی کون ہے؟“
”میرے پڑوسی ہیں۔ یہ حضرت ابھی ٹرانسفر ہو کر آئے
ہیں۔ یہ انھیں کی فیملی ہے“۔
اس نے کچھ اور نہ پوچھا اور خاموش ہو گیا۔
”کیوں کیا بات ہے؟ کیوں پوچھا تم نے؟“
”بس یوں ہی!“
”چلو میں تمہیں ان سے ملواتا ہوں“۔
”نہیں کوئی ضرورت نہیں“۔
”عجیب بات ہے۔ ان کے بارے میں پوچھتے بھی ہو اور ملنا
بھی نہیں چاہتے۔ آخر کیوں؟“
”چھوڑو، کچھ اور بات کرو“۔
لیکن اس دن جب وہ اپنے دوست کے یہاں گیا تو وہ بڑی
لڑکی اور اس کے والد دونوں وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ لڑکی
اس کو دیکھتے ہی کھڑی ہو گئی، ادب سے سلام کیا اور
اندر چلی گئی۔ دونوں اجنبیوں کا تعارف ہوا تو لڑکی کے
والد چونکے۔