Ailgarh Urdu Club quaterly Urdu MagazineDeedahwar

اایک دن وہ بھی!

                                                 ڈاکٹر ابنِ فرید (مرحوم)

ایک طویل عرصہ کے بعد وہ اسے ملی۔زمانہ کی بے رحم رفتار کے آثار اس کے چہرے سے نمایاں تھے۔ وہ بہت توجہ سے کچھ ریڈی میڈ کپڑے دیکھ رہی تھی۔ لیکن محسوس ایسا ہو رہا تھاکہ جیسے وہ سکتہ کا لمحہ ہو۔کاؤنٹر کی دوسری طرف نوعمر سیلز گرل صبر آزما انتظار میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔وہ ذرا ہٹ کر، بے کار محض، سامنے اسٹَیک میں آراستہ چیزوں کو دیکھنے لگا، لیکن اس کی پتلیاں بے ارادہ آنکھ کی داہنی کور کی طرف کھسک آ ئی تھیں۔پھر ایک بار اکتا کر اس نے گہری سانس لی اور گردن گھما کر داہنی طرف دیکھا۔وہ اچانک اس طرح مڑی کہ پشت اس کی طرف کرکے تیزی سے باہر چلی گئی۔ ایک جھونکا تھا ہوا کا جو آیا اور گزر گیا۔تیز و تند گرد باد اٹھے اور فضامیں تحلیل ہوگئے۔ وقت کے بے شمار تھپیڑے تھے جو اپنی چوٹ لگا کر بے نیازانہ معدوم ہوگئے، لیکن دل جو تھا وہ ماضی کے سمندر میں غرق ہوتا چلا گیا۔ کیا دن تھے وہ جو فراموشگاری میں تحلیل ہونے لگے۔ اس نے خود کو سنبھالنا چاہا لیکن دل اس کے لئے آمادہ نہ ہوا۔کاش کوئی اس طرح مندمل ہوتی ہوئی خراشوں کے نشانوں کو کریدا نہ کرے، لیکن جو کچھ ہوا وہ اچانک اور بے قصد و ارادہ ہوا۔اس نے اپنے آپ کو سمجھانا چاہا، لیکن الجھی ہوئی ڈور کا کوئی سرا نہ تھا ، ہوتا تو ہاتھ آتا۔
سیلز گرل نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔اسے گمان ہواکہ شایدوہ اِس گاہک کے اچانک چلے جانے کا سبب تلاش کر رہی تھی،مگر وہ خاموش رہا۔چاہتا تو بتا دیتا ، لیکن اس کی اس نے ضرورت محسوس نہ کی۔بس، بددلی کے ساتھ وہ بھی وہاں سے چلا آیا،اپنے سینے کے بوجھ کو خود اٹھائے ہوئے۔اسے کوئی اور محسوس بھی تو نہیں کر سکتا۔
ایک دن اور ایسا ہی ہوا کہ ایک جنرل اسٹور میں ان دونوں کاآمنا سامنا ہو گیا۔اس نے اس کے چہرے میں نظریں پیوست کر کے دیکھا،مگر اس نے جلدی سے منھ پھیر لیا اور سرعت کے ساتھ اسٹور سے باہر نکل گئی۔وہ اسے محویت کے عالم میں دیکھتا رہا لیکن اس کی نظریں اس کی پشت سے ٹکرا کرواپس آتی رہیں۔کچھ تھا جو دھندھلاگیا تھا، اسے وہ واضح کرنا چاہتا تھا مگر وہ ہو نہیں رہا تھا۔بیچ میں ایک پردے کی پشت جو آگئی تھی۔ ایک درد تھا جسے وہ کھول کر رکھ دینا چاہتا تھا، لیکن بے اعتنا پشت کی دیوار کو وہ ہٹا نہیں سکتا تھا۔
ایسا لگتا تھا کہ وہ اب اسی شہر میں اور اس کے جوار میں کہیں آگئی ہے۔ اسی لئے یہ اچانک ملاقات بار بار ہونے لگی ہے۔مگر اس نے اس سے زیادہ کوئی فکر نہ کی۔ زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی،البتہ اب ذہن کے پچھلے ورق الٹ پلٹ کر کھل جایا کرتے تھے اوردرد آگینی طاری ہوجایاکرتی تھی۔لیکن وہ سب کچھ پُر گدازگہری سانس میں ڈبو دیا کرتا۔جب راکھ ٹھنڈی پڑ چکی ہو تو پھر کیوں اسے کریدا جائے۔ مندمل ہوتی ہوئی پگڈنڈیوں پر واپس جانے سے کیا فائدہ ؟ اپنے آپ سے الجھ کر ایک بار پھر وہ حال میں واپس آجاتااور زندگی معمول پر آجاتی۔لیکن اسی عالم میں پھر کہیں کسی جگہ اس سے ملاقات ہوجایا کرتی اور دل ڈوبنے لگتا۔
ایک چھٹی کے دن وہ اپنے ایک دوست کے یہاں بیٹھا ہوا تھا۔گپ شپ ہورہی تھی۔اسی دوران ایک لڑکی آئی، دونوں کو بڑے ادب کے ساتھ سلام کیا اور اندر چلی گئی۔وہ اسے دیکھ کر چونک گیا۔ سادہ سوتی لباس، بغیر میک اپ کا چہرہ، بے تصنع چال، بے ریا آداب و اطوار! یہ سب تو ممکن ہے، لیکن چونکا وہ اس بات پر تھا کہ وہ چہرہ جاناپہچانا سا لگتا تھا۔اِسے کہیں دیکھا ہے۔کہاں دیکھاہے؟ بہت غور کرنے کے بعد بھی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔سفید بادلوں کے پیچھے چاند ڈوبتا ابھرتا رہا اور چاندنی اور اندھیرے کو آپس میں خلط ملط کرتا رہا۔ شفاف چاندنی اور دھندلے اندھیرے کے کس لمحے میں کون کہاں ٹھہرے؟ساری بے قیام منزلوں میں سے کون اپنی ہے؟ کوئی فیصلہ نہیں کرپا رہا تھا۔ بس وہ حیرانی سے تیرتے ہوئے ناقابلِ اعتبار لمحوں کوشمار کرتا رہا۔
                    Deedahawar Urdu Literary magazine of Aligarh urdu Club                                         



his site is best viewed by Internet Explorer IE Explorer
This site is © Copyright Aligarh Urdu Club, All Rights Reserved.
Kiteboarding Lessons
KL
Aligarh Urdu Club




Aligarh Urdu Club


   Sorry, your browser doesn't support Java(tm)٫
or Enable Java Applet for your browser.Download Java from Java.com


Please Download and Install Urdu   Fonts from HERE, if you have problems reading our website.



 









        
Click here to join Aligarh_Urdu_Club
  Click to join AUC