رفیق میرے
زندگی چلتی رہتی ہے،جب تک موت کا شکنجہ ہمیں جکڑ نہ لے۔جہاں موت نے اپنا پنجہ گاڑھا وہیں زندگی کا اختتام ہوجاتا ہے۔ باقی کوئی حادثہ، بھی زندگی کے سفر کو رکنے نہیں دیتا۔ ابو مرحوم کے انتقال (9مئی 2003)کے بعدجب میں یہاں امریکہ آرہی تھی تو بے شمار دیگر کاموں کے جو بکھرے ہوئے تھے نہ صرف انہیں سمیٹنا تھا بلکہ ان سب میں ابو کی کتابوں کو محفوظ کرنا سب سے اہم کام تھا۔ کیسے،کیونکر اور کس کے حوالے کریں یہ ابو کی زندگی بھر کی محنت جو نو کتابوں کی شکل میں خود انہی کی کمپوز کی ہوئی کمپوٹر میں محفوظ تھیں؟
یہ بڑا اہم سوال تھا خاص طور پر میرے سامنے،کیونکہ قریب سال بھر سے ابو ہر روز اس بات کا ذکر مجھ سے کر رہے تھے کہ میری نو کتابیں پریس جانے کے لئے تیار ہیں تم امریکہ جا کر مجھے پیسہ بھیجو تو میں انہیں فوراً شائع کروانا چاہتا ہوں۔ میری زندگی کا کوئی بھروسا نہیں بیٹا کب آنکھ بند ہو جائے۔ ایسی وجہ سے انہوں نے اپنی ہزاروں کتابوں کی لائبریری بھی جماعتِ اسلامی ہند دہلی کو ڈونیٹ کر دیں تھی۔ تب بھی میں نے ابو سے کہا تھا کہ ابو مجھے ان کی ضرورت پڑے گی تو کیا میں پھر انہیں دوبارہ بازار سے خریدوں گی؟ تب کہنے لگے کہ تم اتنی ساری کتابیں امریکہ تو لے کر جا نہیں سکتیں پھر یہاں تمہارے پیچھے پڑی رہیں گی تو خراب ہی ہوں گی بہتر ہے کہ جماعت کی لائبریری میں پڑھنے والوں کے کام آجائیں۔ خیر قصہ مختصر وہ کتابیں لائبریری چلی گئیں۔
مگر کمپیوٹر اور کتابوں کی اشاعت کا کام ایسا تھا جو کسی ایسے انسان کے حوالے کیا جانا چاہئے تھا جو نہ صرف ابو کے رفیقوں میں سے ہو بلکہ ان کے کام کی نوعیت اور اس کی اہمیت سے بھی واقف ہو۔ چنانچہ اس کام کی ذمہ داری ابو کے درینہ رفیق جن سے کم و بیش چالیس سال سے زیادہ کی رفاقت تھی۔ جنھوں نے ابو کی متعدد کتابوں کی اشاعت میں مدد کی تھی۔شبنم سُبحانی صاحب دہلی کے حوالے کر کے آگئے۔ ان سے ہم نے درخواست کی تھی کہ آپ ابو کی کتابوں میں سے ایک ایک کر کے شائع کرواتے رہیں اخراجات ہم وہاں سے بھیجتے رہیں گے۔
میں 2004 میں امریکہ آگئی اور وہاں شبنم انکل نے ابو کی کتابوں میں سے تو نہیں بلکہ ابو پر جو سیمینار ہوا تھا اس میں پڑھے جانے والے مقالوں کو مرتب کر کے ’’بے مثل انسان، بے بدل قلمکار(2005)” شائع کروائی۔ اس کے بعد ہم نے کہا کہ اب دوسری کتابوں کی تیاری بھی کریں اور سال پیچھے ایک کتاب شائع کرواتے رہیں۔دوسری کتاب کی اشاعت کے لئے ہم لوگ کہتے رہے مگر وہاں آجکل پر بات ٹلتی رہی۔ ابتدا میں تو اس ٹال مٹول کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ پھر ایک دن اچانک فون کیا تو آنٹی (بیگم شبنم سبحانی) نے اٹھایا۔ اور جو کچھ انہوں نے بتایا وہ آج تک ہمارا دل مسوس رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا تمہارے انکل تو نہیں کہیں گے اسلئے میں بتاتی ہوں کہ جو کمپیوٹر تم دے گئی تھیں وہ ہم نے اپنے چھوٹے بیٹے کو دے دیا ہے جو کمپیوٹر انجینئرنگ کر رہا ہے۔ اسے کمپیوٹر چاہیئے تھا۔ اسلئے کام رک جاتا ہے۔
کوئی بات نہین آنٹی ہمیں کمپیوٹر واپس نہیں چاہئے بھلا سے وہی رکھیں، بس اس میں سے ابو کی کتابیں نکال لیں اور انہیں شائع کروادیں۔ یہ کہہ کر بات ختم ہوگئی۔ اس کے بعد بھی ہم انہیں کہتے رہے ہر ہفتہ فون کر تے رہے مگر وہاں کبھی کچھ کبھی کچھ بہانہ ملتا رہا۔ بالآخر 2007 میں یہ خبر مل گئی کہ جب بیٹے کو کمپیوٹر دیا تھا تو اس نے بغیر سوچے سمجھے کمیوٹر “ریفورمیٹ” کرکے اپنا کام شروع کر دیا اور جو ابو کی نو کتابیں اس میں لکھی ہوئی تھیں سب کی سب “ڈیلیٹ “ہوگئیں توہم دل پکڑ کر رہ گئے۔
سارے ہندوستان میں لائٹ کا مسلۂ ہے مگر رامپور (یو پی) میں تو خاص طور پر لائٹ کی صورتِ حال دیگر ہے۔ صرف صبح تین سے پانچ آتی ہے اور پھر دن میں دس سے دو اور چند گھنٹہ شام میں۔ مگر یہ رات اور صبح والی ایسی پابندی سے وقت پر جاتی تھی کہ اس کے جانے آنے کے اوقات سے آپ اپنی گھڑی کا وقت ٹھیک کرلیں۔ مجھے یاد ہے کہ جیسے ہی رات میں لائٹ آئی اور ابو جا کر رات کے تین بجے کمیوٹر کے سامنے بیٹھ گئے اور لکھنے لگے۔ پانچ بجے اٹھ کر آئے نماز پڑھی ناشتہ کیا اور جا کر سو گئے۔ دس بجے سو کر اٹھتے تب تک لائٹ پھر آجاتی تھی تو دوبارہ کمپیوٹر کے سامنے۔ اسطرح انہوں نے اپنی نو کتابیں خود کمپوز کی تھیں ۔
اور ہمیں دہلی سے خبر مل رہی تھی کہ کمپیوٹر “ریفورمیٹ” کر دیا گیا؟ برسوں کی محنت اور ابو کی ذہنی مشقت یوں خاک میں مل گئی؟ کہ آج تک کفِ افسوس مل رہے ہیں۔یہ الگ کہانی ہے کہ پھر کم و بیش تین سال تک ہم ان سے کمپیوٹر کی ڈسک مانگتے رہے کہ اس میں سے کچھ ریکور کر سکیں۔مگر وہاں خاموشی سی خاموشی تھی۔تب وہاں ہم نے جماعت کے دیگر ممبران سے کہہ کر اورصدرِ جماعت سے پریشر ڈلوا کر کمپیوٹر میں سے ڈسک نکلوائی اور اس میں جو کچھ اور جتنا کچھ “ریکور” ہو سکا وہ آپ کی نذر کر رہے ہیں۔
یہ الگ الگ موضوع کی کتابیں تھیں مگر اب چونکہ متفرق مضامین ہی ریکور ہوسکے ہیں اسلئے انہی سب کو ایک جگہ جمع کر نے کی کوشش کی ہے۔
علیگڑھ اردو کلب کی بُنیاد ایسی وجہ سے رکھی کہ ابو کی تحریریں زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچا ئی جا سکیں۔دیدہ ور سہ ماہی کی اشاعت کے پسِ پُشت بھی یہی چیز تھی کہ اب ہم خود ہی ابو کے کام کو آگے بڑھائیں۔ اس کوشش میں ہم کتنے کامیاب ہوئے اس کا فیصلہ تو قارئین ہی کریں گے۔
سراپا سپاس
ڈاکٹر صہیب محمود صدیقی/رضیہ مشکور
