اس وقت دیدہ ور کے دو تازہ شمارے یعنی اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۱ اور جنوری تا مارچ ۲۰۱۲ میرے سامنے ہیں جو مجھے ایک ساتھ موصول ہوئے۔ دیدہ ور کا نیا انداز اور گٹ اپ بہت عمدہ ہے۔ ان دونوں شماروں میں مضامین کا تنوع اور معیار دونوں ہی قابل تعریف ہیں۔ ان شماروں پر رضیہ بی بی اور صہیب صاحب نے خوب ہی محنت کی ہے اور یقینا! اب یہ ایک قیمتی اور معیاری ادبی مجلے کی صورت میں سامنے آیا ہے جس کی پذیرائی ہونی چاہئے۔ اردو جتنی خوبصورت ہےاتنی ہی بد قسمت زبان بھی ہے کہ اسے ہم جیسے قاری ملے ہیں جو صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلا لیتے ہیں اور زبان کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالنے سے گھبراتے ہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ ایسا اچھا رسالہ دس پندرہ ہزار نہ چھپ سکتا یا بازاروں میں نہ خریدا جاسکتا۔ اردو اپنی اس بد قسمتی کے سبب اپنے حقیقی چاہنے والوں سے قربانی طلب کرتی ہے جو اس رسالے کے مدیران دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کو اور کچھ ملے نہ ملے تاریخ میں نام تو رہ جائے گا۔ یہ بھی کیا کم ہے۔
سلمان غازی
بمبٔی ۔ ہندوستان
عالمی سھارا ۔ ۲۵ فروری ۲۰۱۲


