معروضات
’’دیدہ ور ‘‘کے شمارے آپ کے سامنے ہیں۔ ہم نے اوّلین شمارے سے یہ کوشش کی ہے کہ اس میں عصری کے ساتھ کلاسیکل ادب کو بھی قارئین کے سامنے پیش کیا جائے۔ ہماری اس فکر کو کہ موجودہ قارئین بالخصوص مغرب میں بیٹھے ہوئے قارئین کو ادب کی تاریخ سے قریب رکھا جائے، کو اس سعی سے جلا ملی۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اردو ادب سے محبت بھی کرتے ہیں اور مطالعہ بھی مگر یا تو ان کے پاس مطلوبہ کتب نہیں ہیںیا ان کے کتب خانے اپنے ملکوں سے یہاں منتقل نہیں ہو سکے ہیں۔اور الحمد اللہ اس ادنیٰ سی کوشش میں ہمارا سفر کامیابی کی طرف جاری ہے۔بے شمار لوگ ہمیں خطوط لکھتے ہیں جو ’’دیدہ ور ‘‘کی ویب پر موجود کلاسیکل کتب کی پذیرائی میں ہوتے ہیں۔اس کے لئے ہم اپنے قارئین کے شکر گزار ہیں۔
ہمیں خوشی ہے کہ ہماری اس کوشش کو نہ صرف سہارا گیا بلکہ قارئین،اہلِ قلم اور دوستوں نے اپنے گراں قدر مشوروں سے بھی نوازا۔جس سے ہمیں گزشتہ چار سال میں اس رسالے کو اور بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ساتھ ہی قارئین کی فرمائش پر ہم نے ایسے کتابی شکل میں بھی شائع کرنے کا عزم کیا۔اور آپ سب کی مدد سے یہ کوشش بھی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔مگر اس صورت میں مجھ پر کام کا بار بڑھ گیا۔’’ سہ ماہی دیدہ ور ‘‘ کے ساتھ جو آن لائن تھا’’ ماہنامہ دیدہ ور ‘‘کا کتابی صورت میں شائع کروانا ایک مستقل مصروفیت ہوگئی
تھی۔ اس لئے اسکی تمامتر کامیابی اور قارئین کی ناراضگی کے ہم نے ’’ماہنامہ دیدہ ور ‘‘ سال بھر کے بعد بند کرنے کا فیصلہ کیا۔اگر ہم ہندوستان میں ہوتے تویہ کام بھی جاری رہ سکتا تھا مگر یہاں امریکہ میں بیٹھ کر اسے تنہا جاری رکھنا بے حد مشکل ہو رہا تھا۔ ایسی وجہ سے ہمیں اپنے دوستوں اور قائین کی ناراضی بھی برداشت کرنا پڑی۔
مگر اس کے ساتھ ہی ہم نے اپنے قارئین اور دوستوں کی ناراضی کے پیشِ نظر’’سہ ماہی دیدہ ور‘‘ کو ہی کتابی شکل میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اور اس کا خیر مقدم بھی آپ سب کی محبتوں اور علم دوستوں کی علم پروری کا ثبوت ہے۔جسطرح اور جسقدر ضخیم ’سہ ماہی دیدہ ور‘ برقی گزشتہ چال سال سے پابندی سے شائع ہو رہا ہے ویسے ہی اس کو کتابی شکل میں بھی منظرَعِام پر لایا جا رہا ہے۔ اسلئے جو خواتین و حضرات ایسے کتابی شکل میں پڑھنا چاہتے ہیں ان کے لئے ہمارا یہ تحفہ ہے۔ امید ہے آپ سب کو یہ پسند آئے گا، اور آپ ایسے بھی ویسے ہی سراہیں گے جیسے ماہنامہ کو یابرقی شماروں کو۔
میں یہ نہیں کہتی کہ یہ دنیا کے بہترین رسالوں میں شامل ہے مگر اتنا یقین بھی ہے کہ اس کی سنجیدگی اور خالص ادبی شکل ایسے ایک انفرادیت ضرور دیتی ہے۔ کیونکہ اد ب میں جو فی الوقت بے نیازی، دوست پروری،اور واہ واہی نے جنم لیا ہے وہ اب ہمارا قومی مزاج بنتی جارہی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ادب میں سنجیدگی کی کمی ہے بلکہ ہو یہ رہا ہے کہ ادب کے نام پر’’میں‘‘ کی تشہیر نے ادب میں اس بین القوامی جذبات کی لے کم کر دی ہے جس نے اردو کا لازوال ادب پیدا کیا تھا۔اس طرح موجودہ دور میں ،کتابوں پر تبصرے، شعری فن کے نام تبصراتی مضامین جو زیادہ تر فنِ شاعری کے بجائے شخصیت پر ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں نے ادب میں ایک عجیب و غریب صورتَ حال پیدا کر دی ہے۔غالب ؔ کی شخصیت ان کی شاعری سے پہچانی گئی مگر کیا یہ بات آج کے اہلِ قلم کی بابت کہی جا سکتی ہے؟
اس اعتبار سے ہمارا سلام ہے ان تمام ادبی مجلوں کو جن کی بدولت سنجیدہ، تحقیقی و تنقیدی مضامین کا معیار یہ رسالے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اور ہماری بھی یہی کوشش ہے۔ ہمیں امید قوی ہے کہ آپ تمام دوست اس علمی کام میں ہماری مدد فرمائیں گے۔ اور اپنے قیمتی مشوروں سے ہمیں نوازیں گے۔ ساتھ ہی ’’دیدہ ور‘‘ کے لئے اپنا قلمی تعاون دیتے رہیں گے۔ اور اس رسالے کو آپ اپنے احباب کے حلقہ میں متعارف کرائیں یہی ہماری آپ سے درخواست ہے۔جزاک اللہ خیر۔
ممنون ومتشکر
رضیہ مشکور
